دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 539
539 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس حدیث میں تو آنحضرت صلی الی نیلم نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی پیروی لازم ہے۔اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اٹارنی جنرل صاحب یہ کہہ رہے تھے ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی کی پیروی ضروری نہیں۔اب ہر مسلمان آزاد ہے کہ وہ آیاتِ قرآنی سے جو مناسب سمجھے استدلال کرے۔اگر اب ہدایت کے لئے کسی مقدس وجود کی کوئی ضرورت نہیں تھی تو آنحضرت صلی ا ہم نے گمراہی کے دور کا ذکر کے کیوں فرمایا تھا:۔جائے 66 فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيْفَةَ اللهِ فِى الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ وَ اِنْ نُهِكَ جِسْمُكَ “ 66۔(مسند احمد بن حنبل۔حدیث حذیفہ بن الیمان- الجزء السادس ص559۔مطبوعہ بیروت لبنان) "اگر تم اس دن زمین پر اللہ کے کسی خلیفہ کو پاؤ تو اس سے چمٹ جانا خواہ تمہارا جسم زخمی کر دیا معلوم ہوتا ہے کہ اب اٹارنی جنرل صاحب کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا تھا۔اب ان کی غلط بیانیوں پر انہیں کوئی نہیں روک رہا تھا۔گیارہ روز جماعت کے وفد کی موجودگی میں انہیں جس روک ٹوک کا سامنا تھا اب وہ روک ٹوک موجود نہیں تھی کیونکہ جماعت کا وفد یہاں پر موجود نہیں تھا۔ممبرانِ اسمبلی بت بن کر بیٹھے تھے۔اس مرحلہ پر انہیں شاید یاد آگیا کہ جماعت کے وفد کی طرف سے بہت سے حوالے پیش کئے گئے تھے کہ ایک فرقے کے علماء نے دوسرے فرقے سے وابستہ افراد پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔شاید وہ اس کا کچھ ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے علامہ اقبال کا حوالہ پڑھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی دوسرے پر کفر و ارتداد کے فتوے لگانے سے مذہبی معاملات میں عقل اور ذہانت میں خوب اضافہ ہوتا ہے اور سابقہ ادوار میں بھی عالم اسلام میں ذہنی ترقی کے لئے یہی نسخہ استعمال کیا گیا تھا۔انہوں نے علامہ اقبال کی تحریرات میں سے یہ عبارت پڑھ کر سنائی The history of Muslim theology shows that mutual accusation of heresy on minor points of differences has far from from working as a disruptive force, actually gave impetus to synthetic theological thought۔۔۔۔۔