دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 540
540 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی اسلامی مذہبی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے پر ارتداد کا الزام لگا دینے سے نہ صرف اتحاد میں کوئی رخنہ نہیں پڑا بلکہ اس سے تعمیری مذہبی سوچ کو ایک نئی تر و تازگی ملی ہے۔اللہ ہی رحم کرے۔اس وقت اٹارنی جنرل صاحب اور ان کے قابل ساتھی کیا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے کہ ایک دوسرے پر ارتداد ، کفر اور الحاد کے فتوے لگا کر پاکستان میں ذہنی ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا۔اگر یہی کلیہ صحیح تھا تو اس وقت پاکستانی قوم کو ذہنی طور پر سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم ہونا چاہیے تھا۔اس کے بعد انہوں نے یہ وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی کہ یہ heresy اصل میں heresy below heresy ہوتی ہے۔اس سے مراد ex۔communication نہیں ہوتی۔ویسے یہی بات کچھ روز پہلے حضور نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ان کفر کے فتاویٰ کا صرف یہی مطلب لینا چاہئیے کہ فتویٰ لگانے والے کے نزدیک جن پر فتویٰ لگایا جا رہا ہے ، ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور اس سے مراد یہ نہیں لینا چاہیے کہ جس پر فتویٰ لگایا گیا ہے وہ ملتِ اسلامیہ کا فرد نہیں رہا۔اب انہوں نے Ahmadiyyat or True Islam کے حوالے دے کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضرت مسیح موعود کا دعوی صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ہم اسی کتاب کے چند جملے پیش کرتے ہیں ،جن سے روز روشن کی طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب محض لا یعنی دعوے کر رہے تھے Ahmadiyya Movement believes firmly in the Holy Quran and is a Movement of Muslims۔(Ahmadiyyat Or The Real Islam, By Hazrat Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, 1959, published by Ahmadiyya Muslim Foreign Missions p21) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے مقصد کے بارے میں لکھا ہے The Messiah of Islamic dispensation should not only be from among his followers but should come to re-establish Quranic Law۔