دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 538
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 538 نہ بولو۔جھوٹی گواہی نہ دو۔زنا نہ کرو۔خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیانِ شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 17 ص436) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر قرآنی احکام کے بیان اور تجدید دین کا ذکر ہے ، نئی شریعت لانے کا ذکر نہیں ہے۔اس کے بعد انہوں نے یہ خلاف واقعہ دعویٰ کیا کہ چودہ سو سال سے تمام مسلمان خاتم النبیین کے معنی یہ کرتے آئے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔یہ بالکل غلط دعویٰ تھا۔ہم پہلے ہی بہت سے حوالے درج کر چکے ہیں اور اس قسم کے حوالے جماعتِ احمدیہ کے محضر نامہ میں بھی شامل تھے اور سپیشل کمیٹی میں بھی پڑھ کر سنائے گئے تھے کہ چودہ سو سال سے امت کے بہت سے اولیاء اس بات کے قائل رہے تھے کہ آنحضرت صلی اسلام کے بعد امتی نبی آ سکتا ہے۔الله سة اس مرحلہ پر انہوں نے جو نظریات پیش کئے کہ وہ خوارج کے بعض گروہوں کے عقائد سے کافی ملتے تھے۔انہوں نے علامہ اقبال کے کچھ حوالے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ختم نبوت کی اصل فلاسفی یہ ہے کہ اب مسلمان اپنی سوچ میں آزاد ہیں۔وہ قرآنِ کریم کی آیات سے خود استدلال کر سکتے ہیں اور آنحضرت صلی ال ل ل و م کے بعد کسی اور کی پیروی ان کے لئے ضروری نہیں۔روحانیت میں ترقی کے لئے اب کسی اور کی پیروی کی ضرورت نہیں۔وہ یہ دور کی کوڑی لا رہے تھے کہ اس طرح یہ سوچ کی آزادی کی ضمانت ہے۔وہ خوامخواہ اپنی سوچ کو تمام مسلمانوں کی طرف منسوب کر رہے تھے۔اس اسمبلی میں بھی ایسے فرقوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد بیٹھی ہوئی تھی جو کہ کسی نہ کسی امام کے مقلد تھے۔جیسا کہ ہم پہلے حوالہ درج کر چکے ہیں کہ یہاں تک فتویٰ دیا گیا تھا کہ جو حضرت امام ابو حنیفہ کے قیاس کو نہ مانے وہ کافر ہے۔سب سے بڑھ کر اگر آنحضرت صلی لا علم کے بعد کسی کی بھی تقلید ضروری نہیں تو آنحضرت صلیلی لیلی دیوی نے یہ کیوں ارشاد فرمایا تھا:۔فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيَّيْنَ عَضُّوْ عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ“ (سنن ابن ماجہ۔باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المحمد بین)