دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 384
384 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مرزا صاحب! بیclarification اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اس کو approve نہیں کرتے؟ آپ کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے ؟“ فرمایا: اگر اس وقت ان میں خوش فہمی کی کوئی رمق باقی رہ گئی تھی تو وہ بھی رخصت ہو گئی۔حضور نے پھر ” میں یہ کہتا ہوں کہ جس کتاب کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ اس میں ہے۔یہ اس میں نہیں ہے۔“۔یعنی پہلے تو پاکستان کی قابل قومی اسمبلی میں صرف جعلی حوالے پیش کئے جارہے تھے۔اب یہ نوبت آگئی تھی کہ جعلی حوالے کی جعلی فوٹو کاپی بھی پیش کی گئی۔نظریات اور عقائد کی بحث کو ایک طرف رکھ دیں ،اس طرح جعلی حوالے اور جعلی فوٹو کاپی پیش کرنا صرف اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔ہر پڑھنے والا اس واقعہ پر اپنی رائے خود قائم کر سکتا ہے۔اس حالت کے باوجود اس گروہ کا یہ دعویٰ حیرت انگیز ہے کہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔اب اٹارنی جنرل صاحب کچھ معذرت خواہانہ رویہ دکھا رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگا رہا، آپ سے clarification چاہتا ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا:۔”ہاں میں نےclarification دے دی کہ نہیں ہے۔66 اٹارنی جنرل صاحب نے پھر کہا کہ میرے پاس سوالات آتے ہیں۔میری ڈیوٹی ہے کے آپ کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں۔آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ پر کوئی Allegation لگا رہا ہوں۔