دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 385
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 385 اور یہ اعتراض اس لئے بھی بالکل بے بنیاد تھا کیونکہ امت مسلمہ میں بھی معروف مسنون درود کے علاوہ بھی اور بہت سے درود معروف ہیں اور پڑھے جاتے ہیں۔ان میں درود کی دعا میں آلِ محمد کے ساتھ مختلف لوگوں کو یہاں تک کہ تمام مومنین کو درود میں شامل کیا گیا ہے۔(ملاحظہ کیجئے ”فضائل درود شریف مصنفہ مولانا محمد زکریا۔“ اس سیشن میں باقی سوالات بھی اسی نوعیت کے تھے کہ احمدیوں نے خود ہی ہمیشہ سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔اور اس کی نام نہاد برہان قاطع کے طور پر اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی کی ایک تصنیف ”سیرت مسیح موعود علیہ السلام “ کے انگریزی ترجمہ میں درج ایک Heading پیش کیا۔اس کی عبارت یہ تھی Ahmadis to form a seperate community from outside Mussalmans اس عبارت کی غلط انگریزی ہی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ ترجمہ میں یہ سہو آغلط عبارت شائع ہوئی ہے جیسا کہ دنیا بھر میں کتب کی اشاعت میں ہوتا ہے لیکن اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور قابلِ توجہ ہیں۔1)۔حضرت خلیفة المسیح الثانی کی اصل تصنیف میں یہ ہیڈنگ موجود نہیں یہ مترجم کی طرف سے ہے۔2)۔اس کے نیچے درج عبارت ہی اس بات کو ظاہر کر دیتی ہے کہ یہاں پر وہ بات نہیں بیان کی جا رہی جسے ثابت کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب کوششیں کر رہے تھے۔یہاں پر تو یہ لکھا ہے کہ جب 1901ء میں مردم شماری ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احمدیوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اس موقع پر اپنے آر کو ” احمدی مسلمان “ لکھوائیں۔ذرا تصور کریں کہ اس جگہ پر یہ عبارت موجود ہے اور اس کا حوالہ پیش کر کے اٹارنی جنرل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تاریخی طور پر احمدی کبھی بھی اپنے آپ کو دو