دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 383
383 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مستعمل ہے تو کیا ان سب مسلمانوں کو عیسائی سمجھا جائے گا۔پھر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ احمدیوں نے مسنون درود کی بجائے اپنا علیحدہ درود بنایا ہوا ہے اور اس میں احمد کا نام شامل کیا گیا ہے۔اس الزام کی لمبی چوڑی تردید کی ضرورت نہیں۔دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک میں احمدی موجود ہیں ان میں سے کسی سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے کہ وہ نماز میں کونسا درود پڑھتا ہے اور جماعت کے لٹریچر میں ہزاروں جگہ پر درود کی عبارت درج ہے کہیں سے پڑھ کر اپنی تسلی کی جا سکتی ہے۔اپنے اعتراض کو ثابت کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک وو احمدی کے مرتب کردہ کتابچہ درود شریف“ کا حوالہ پیش کیا اور یہ اعتراض پیش کیا کہ احمدیوں نے ہمیشہ سے خود کو مسلمانوں سے ہر طرح علیحدہ رکھا ہے۔یہاں تک کہ احمدیوں کا درود بھی علیحدہ۔د بھی علیحدہ ہے اور اس میں محمد صلی اللہ ولیم اور آل محمد صلی این ایم کے علاوہ احمد اور آلِ احمد کے الفاظ بھی شامل ہیں۔اس بار سوالات کرنے والی ٹیم کی کوشش تھی کہ سابقہ خفت کا ازالہ کیا جائے۔غالباً اٹارنی جنرل صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اس مرتبہ میں جعلی حوالہ پیش نہیں کر رہا انہوں حضور سے کہا:۔وو ” میں ابھی آپ کو فوٹو سٹیٹ دیتا ہوں آپ اسے ایک نظر دیکھ لیجئے۔وو 66 اس مرحلہ پر مولوی ظفر انصاری صاحب نے اُٹھ کر کہا، ” یہ ضمیمہ صفحہ 144 رسالہ درود شریف اور ایک طویل روایت بھی پڑھی اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ علیحدہ درود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں بھی پڑھا گیا تھا۔ابھی ان کا بیان ختم ہوا تھا کہ یہ انکشاف کسی بجلی کی طرح ان پر گرا کہ یہ حوالہ بھی جعلی اور خود ساختہ ثابت ہو گیا ہے۔حضور نے فرمایا:۔۔۔یہ رسالہ درود شریف جو کہا جاتا ہے۔ہمارے پاس ہیں۔ان میں یہ ہے ہی نہیں۔“ اب اٹارنی جنرل صاحب گبھرا کے بولے:۔