دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 316
316 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 66 ہے۔حضور نے اس کے جواب میں ابھی یہی فرمایا تھا کہ ” آپ کا مطلب یہ ہے “۔تو معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی وو جنرل صاحب کو احساس ہوا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔سوال تو وہ کر چکے تھے۔جواب کو روکنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔انہوں نے بات بدل کر کہا کہ ” یہ مختصر ہو۔میں نہیں آپ کو روکتا۔نہ مجھے اختیار ہے نہ میں آپ کو روک سکتا ہوں۔صرف یہ ہے کہ Proceedings لمبی ہو گئی ہیں۔آپ پر بھی Strain ہے۔اسمبلی پر بھی Strain ہے۔اس لئے میں مؤدبانہ عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کو اس چیز کے لیے Confine کریں۔اس کا Background ہمیں مل گیا ہے۔آپ نے پوری تفصیل سے بتایا ہے۔۔۔66 بہر حال تیر تو اب کمان سے نکل چکا تھا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے فرمایا ”اگر میں یہ سمجھوں کہ اس پس منظر کو سامنے لائے ہوئے کہ میں اس مختصر سوال کا مختصر جواب نہیں دے سکتا تو پھر میرے لیے کیا ہدایت ہے آپ کی؟“ اب یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب بے بس تھے۔انہوں نے بے چارگی سے کہا جیسے آپ کی مرضی، میں نے Request کی تھی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے سینکڑوں میں سے صرف چند مثالیں لی ہیں اور دوسرا حوالہ پڑھنا شروع کیا۔اب تو مولوی حضرات کو بھی نظر آ رہا تھا کہ ان کے اعتراض کی کیا گت بن رہی ہے۔چنانچہ قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے سپیکر صاحب سے اپیل کی کہ گواہ کو روکا جائے کہ وہ دوسروں کی گالیاں کیوں پیش کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت سپیکر صاحب ان کی مدد کو نہیں آ رہے تھے چنانچہ سپیکر صاحب نے ان کو تنبیہ کی۔"This is a question۔This can only come through the attorney general۔Yes the witness can reply۔He should continue, what he was replying۔