دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 315 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 315

315 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سوال کرنا انہیں مہنگا پڑے گا۔عقلمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ سوال اُٹھایا ہی نہ جاتا اور اگر اس کو اُٹھا ہی دیا گیا تھا تو اس کے جواب کے لئے اصرار نہ کیا جاتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب بظاہر سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ، تو وہ مخالفین کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی بد زبانی کے جواب میں مناسب اور جائز سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں لیکن یہ غلطی بھی کر دی گئی۔ہم کچھ دیر کے لیے واقعات کے تسلسل کو نظر انداز کر کے 9 اگست کو شام چھ بجے شروع ہونے والی کارروائی کا جائزہ لیتے ہیں۔جب چھ بجے کارروائی شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب نے از خود دریافت کیا کہ چند حوالے سنائے گئے تھے جو چند بزرگوں کے متعلق توہین آمیز جملے تھے ان کا مطلب کیا تھا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث کا بات کرنے کا ایک خاص دھیما انداز تھا۔آپ نے آہستگی سے بات شروع فرمائی اور فرمایا: ”جی۔۔۔وہ جو حوالے جس میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔جس کی طرف آپ نے میری توجہ دلائی تھی وہ تاریخ کا ایک ورق ہے جس پہ قریبا ستر سال ؟ ستر سال گزر چکے ہیں اور تاریخی واقعات کی صحت سمجھنے کے لیے وہ تاریخ کا ماحول سامنے لانا ضروری ہے ورنہ اس کی سمجھ نہیں آ سکتی۔کچھ تمہید کے بعد حضور نے مثالیں دینا شروع کیں اور ابھی پہلی مثال ہی دی تھی جس میں بریلویوں نے ایک اور فرقہ تعلق رکھنے والوں کو خبیث اور ان سے نکاح کو زنا اور ایسی شادی سے ہونے والی اولاد کو ولد الزنا قرار دیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کی آنکھیں کچھ کھلیں کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں حالانکہ ابھی تو اس بدزبانی کا ذکر شروع ہی نہیں ہوا تھا جو ان کے بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کی تھی۔اب انہوں نے اس جواب کو روکنے یا کم از کم مختصر کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے اور کہا کہ میرا سوال تو سادہ تھا میں نے تو تین بزرگوں کا نام لے کر دریافت کیا تھا کہ ان کے متعلق مرزا صاحب نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔آپ ان فتووں کا ذکر کر رہے ہیں کہ سنیوں نے شیعوں کو کیا کہا ہے اور شیعوں نے سنیوں کو کیا کہا ہے۔ان کا کیا جواز