دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 297
297 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسے بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔یعنی جناب پیغمبر خدا صلی للی کنیم و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت و شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر ران پر رکھ لیا۔۔۔۔“ 66 (روحانی خزائن جلد 18 ص213) اب اگر اس پاکیزہ بیان اور با برکت کشف سے کوئی غلط اور قابل اعتراض مطلب اخذ کرتا ہے تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مخالف تو ہے مگر اس کے دل میں اہل بیت کی ذرا سی محبت بھی نہیں ہے۔ذرا تصور کریں اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اور روحانی علوم حاصل کرنے کے لئے اہل بیت سے محبت رکھنا نہایت ضروری ہے اور معترضین کی ذہنیت ملاحظہ کریں کہ ”مادر مہربان “ کے الفاظ غائب کر کے یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ اہل بیت کی توہین کی گئی ہے۔یہ اعتراض صرف معترض کے گندے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔حضرت فاطمہ کو یا آنحضرت صلی علیم کو اگر رویا میں دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی بابرکت رؤیا ہے۔اس روز یعنی 8/ اگست کو جب کمیٹی کی کارروائی کا آغاز ہوا تو حضور نے علم التعبیر کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:۔”ایک سوال ایک کشف کے متعلق پوچھا گیا تھا جس کا تعلق حضرت فاطمہ سے ہے۔اس سلسلے میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امت محمدیہ میں علم رویا کا ایک علم مدوّن ہوا ، بڑ از بر دست اور اس کے اماموں میں امام جعفر صادق اور ابن سیرین مشہور امام ہیں۔اس علم کے اور علم کی حیثیت سے مدوّن ہوا اور امتِ مسلمہ کی تاریخ میں