دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 296 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 296

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 296 8/ اگست کی کارروائی 8 اگست کو کارروائی شروع ہونے سے قبل سپیکر صاحب نے اس عندیہ کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ مبائعین اور جماعت احمدیہ غیر مبایعین پر سوالات 10/ اگست تک چلیں گے یعنی سپیشل کمیٹی کی کارروائی ہو گی۔13 اور 14 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس کر کے یہ معاملہ نمٹا دیا جائے گا۔ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ پہلے سپیکر صاحب نے کہا تھا کہ یہ سلسلہ دو تین دن جاری رہ لیکن اب یہ کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی ہے 10 / اگست تک چلے گی۔اس کے بعد عملاً یہ کارروائی اس سے بھی آگے تک جاری رہی۔اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ سوال کرنے والے جانتے تھے کہ انہیں اب تک عملاً کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن وہ محسوس کرتے تھے سکتا کہ اگر یہ کارروائی اور زیادہ جاری رہے تو انہیں مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔اگلے روز جب کارروائی شروع کارروائی شروع ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس اعتراض کا جواب دینا شروع کیا جو ایک روز قبل کیا گیا تھا۔اور یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف پر کیا گیا تھا اور اس ضمن میں حضور کی تصنیف ”ایک غلطی کا ازالہ “ کا حوالہ دیا گیا تھا۔اور یہی کشف براہین احمدیہ میں بھی درج کیا گیا ہے۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اٹارنی جنرل صاحب نے حوالہ پڑھتے ہوئے تحریف شدہ عبارت پڑھی تھی۔ہم صحیح عبارت درج کرتے ہیں۔پڑھنے والے فرق کو خود محسوس کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں وو افاضہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی بہت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہی طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں۔۔ایک