دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 216
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 216 سامنے بیٹھے ہیں یہ تو ان سے پوچھا جائے لیکن اٹارنی جنرل صاحب اس بات کو دہراتے رہے۔پھر حضور نے ایک بار اور واضح فرمایا کہ ان کے متعلق میں کیسے بتا سکتا ہوں کہ ان کی مراد کیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب نے پھر مطلوبہ تاثر کو قائم کرنے کے لیے یہ ذکر چھیڑا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے انہیں یاد دلایا کہ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ ایک احمدی بچہ کی تدفین کی گئی اور غیر احمدیوں نے اس بنا پر کہ یہ ایک احمدی بچہ تھا اس کی قبر اکھیٹر کر لاش کو باہر نکلوایا اور یہ یاد دلایا کہ انہی دنوں میں فسادات کے دوران گوجرانوالہ میں ایک احمدی بچے کی تدفین کو روکا گیا اور قائد آباد میں ایک احمدی کی قبر اکھیڑ کر اس کی لاش کو قبر سے باہر نکالا گیا۔اس پس منظر میں یہ ایک مضحکہ خیز سوال تھا کہ احمدی ، غیر احمدیوں یا ان کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے ؟ اور یہ سوال احمدیوں سے کیوں کیا جا رہا تھا۔خود غیر احمدی مسلمانوں نے تواتر سے یہ فتاویٰ دیئے ہیں کہ احمدی بچوں کا جنازہ پڑھنا بالکل نا جائز ہے۔سینکڑوں میں سے صرف چند مثالیں پیش کی جاتی ہے۔”فتاویٰ محمدیہ “ جو کہ مفتی عبید اللہ خان صاحب کے فتاوی پر مشتمل ہے اور مکتبہ قدوسیہ سے شائع ہوئی تھی ،اس کا ایک فتویٰ ملاحظہ ہو:۔جن لوگوں نے قادیانی عورت کو مسلمان سمجھ کر اس کی نام نہاد نماز جنازہ میں شرکت کی ہے اور دعائے استغفار پڑھی ہے وہ بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر شرعا کافر ہو گئے ہیں یعنی وہ مرتد ہیں اور ان کی بیویاں ان کے حبالہ عقد سے آزاد ہو چکی ہیں۔“ (صفحہ 123)۔۔۔۔اور احمدی بچوں کی نماز جنازہ کے بارے میں اس کتاب میں فتویٰ ہے 66 جس طرح کسی بالغ قادیانی مرد کا جنازہ پڑھنا کفر ہے اور اسی طرح نا بالغ قادیانی کا جنازہ پڑھنا بھی کفر ہے۔" (صفحہ 119)