دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 215 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 215

215 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رکھتے ہیں۔نماز پڑھنا یا جنازہ پڑھنا تو در کنار انہوں نے تو یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ نہ صرف دوسرے فرقہ سے وابستہ افراد کافر ہیں بلکہ اگر ان سے شادی کرلی جائے تو اولاد ولد الزنا ہو گی۔اگر اسی امر کو معیار بنا کر آئین میں غیر مسلم بنانے کا عمل شروع کیا جائے تو تمام فرقے غیر مسلم قرار دے دیئے جائیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا کوئی شخص دیکھنے کو بھی نہ ملے گا جسے آئینی طور پر مسلمان کہا جا سکے۔جنازہ کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ فرض کفایہ ہے۔اگر کہیں پر جنازہ پڑھنے والا کوئی مسلمان نہ ہو تو احمدیوں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ضرور اس غیر احمدی مسلمان کا جنازہ پڑھیں بلکہ ایک مرتبہ جب ڈنمارک میں ایک مسلمان عورت کے جنازہ کی صورت میں ایسا نہیں کیا گیا تو اس پر حضور نے اس جماعت پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا:۔جب یہ حوالے پڑھے گئے تو جو اثر اٹارنی جنرل صاحب اپنے سوالات سے قائم کرنا چاہتے تھے وہ زائل ہو گیا۔نہ معلوم اس بات کی پریشانی تھی یا اس بد حواسی کا کچھ اور سبب تھا ، اٹارنی جنرل صاحب نے اس مرحلے پر کچھ نا قابلِ فہم سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔انہوں نے غیر احمدی علماء کے فتاویٰ کے بارے میں حضور سے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا اس سے مراد ہے کہ ان فتاویٰ کی وسیع زد میں آنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ تو فتاویٰ دینے والے خود بتائیں کہ ان کی مراد کیا تھی میں کس طرح بتا سکتا ہوں؟ اور سادہ سی بات تھی کہ جن مسالک کے فتاویٰ تھے ان کے بڑے بڑے مولوی صاحبان سامنے بیٹھے تھے ، ان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے جو فتاویٰ دیئے ہیں ان سے کیا مراد تھی۔جماعت احمدیہ کا وفد اس کا جواب کیسے دے سکتا تھا؟ پھر انہوں نے ایک اور نا قابل فہم سوال کیا کہ جو فتاویٰ احمدیوں کے خلاف ہیں ان سے کیا مراد ہے؟ یعنی کیا ان سے مراد دائرہ اسلام سے خارج ہونا ہے یا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہونا ؟ یہ ایک اور عجیب سوال تھا؟ حضور نے فرمایا کہ جو علماء