دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 210
210 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب زیر بحث موضوع کی طرف آتے ہیں۔اسلام کے باقی فرقوں سے وابستہ اراکین جو یہ اعتراضات احمدیت پر کر رہے تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں پر وہ وہ اعتراضات کیے تھے اور ایسے فتوے لگائے تھے کہ خدا کی پناہ۔اس مرحلہ پر یہ ضروری تھا کہ ان کو کسی قدر آئینہ دکھایا جائے۔چنانچہ جب یہ بحث کچھ دیر چلی تو حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے غیر احمدی علماء کا ایک فتویٰ پڑھ کر سنایا۔اس فتویٰ سے صرف ہندوستان کے علماء نے ہی نہیں بلکہ بلادِ عرب کے بہت سے علماء نے بھی اتفاق کیا تھا۔حضور نے اس کے یہ الفاظ پڑھ کر سنائے:۔”وہابیہ دیوبندیہ اپنی تمام عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء حتی کہ حضرت سید الاولین والآخرین صلی الم کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت اور ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت سخت درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جو ان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد و کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ بھی مرتد و کافر ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل محترز و مجتنب رہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں انہیں گھنے دیں۔نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں اور نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں، مریں تو گاڑنے تو پنے میں 66 شرکت نہ کریں۔مسلمانوں کے قبرستان میں کہیں جگہ نہ دیں غرض ان سے بالکل احتیاط و اجتناب رکھیں۔“ ابھی یہ باغ و بہار قسم کا فتویٰ جاری تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ یہ تو محضر نامہ میں بھی شامل ہے اس لیے اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سے ان کی بے چینی ظاہر ہوتی تھی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ مجھے یہاں پر دہرانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا۔اس