دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 209
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 209 بحث کی بنیاد انہوں نے اس تحریر سے اُٹھائی۔حقیقت یہ تھی کہ یہ تحریر حضرت خلیفة المسیح الثانی کی نہیں تھی بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تھی۔(ملاحظہ کیجئے ریویو آف ریلجنز جلد 14ص169) یہ بات قابل غور ہے کہ 6/ اگست کی کارروائی کے بالکل شروع میں اٹارنی جنرل صاحب نے حوالہ جات کی کتب کو اٹارنی جنرل صاحب کے پاس رکھنے کا کہا تھا تو اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا ” They are available“۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا "?All are available “۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے پھر کہا۔"They are available“۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا جو ریفرنس آپ پیش کریں وہ ان کو دکھا دیئے جائیں کہ یہ ریفرنس ہے۔اس گفتگو سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ جو ریفرنس پیش کئے جانے تھے وہاں پر موجود تھے۔اس کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب نے جو پہلا حوالہ پیش کیا اس میں تحریر غلط شخصیت کی طرف منسوب کی۔اگر یہ غلط حوالہ دینے کا واقعہ ایک دو مرتبہ ہوتا تو قابل در گزر تھا لیکن مختلف طریق پر غلط حوالے دینے کا سلسلہ اس کارروائی میں بہت تواتر سے جاری رہا۔اس صورت حال میں دو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں۔1)۔اپنے موقف کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے مخالفین اس بات پر مجبور تھے کہ غلط حوالے پیش کریں۔2۔اٹارنی جنرل اور اس اسمبلی میں سوالات کرنے والوں کی ذہنی حالت ایسی تھی کہ وہ اگر سامنے حوالہ تحریری طور پر بھی موجود ہو تو صحیح طرح پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ایسی صورت میں ان پر سے اس پہلو سے بد دیانتی کا الزام تو ہٹ جاتا ہے لیکن ان کی ذہانت کے بارے میں کافی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔