دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 211
211 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اس پر حضور نے اس فتوے کا باقی حصہ پڑھ کر سنایا۔وو پس دیو بند یہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں۔ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہو گی وہ حرامی ہو گی اور از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔“ حضور نے فرمایا کہ ” اس اشتہار میں جن علماء کے نام ہیں، ان میں چند ایک یہ ہیں سید جماعت علی شاہ ، حامد رضا خان صاحب قادری غوری رضوی بریلوی ، محمد کرم دین ، محمد جمیل احمد وغیرہ بہت سے علماء کے نام ہیں۔ایک رخ یہ بھی ہے تصویر کا۔ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے متعلق آپ مجھ سے وضاحت کروانا چاہتے ہیں۔اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔یہ بہت سارے حوالے ہیں۔میں ساروں کو چھوڑتا ہوں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔اہل حدیث کے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیر مبہم الفاظ میں خبر دار کرتے ہیں کہ وہابیہ وغیرہ مقلدین زمانہ بالاتفاق علماء حرمین شریفین کافر مرتد ہیں ایسے کہ جو ان کے اقوالِ لغویہ پر اطلاع پا کر کافر نہ مانے یا شک کرے وہ کافر ہے۔ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ان کا نکاح کسی مسلمان کا فر یا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔اس کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا ، اٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام ہیں۔ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔یہ اہلحدیث کے پیچھے نماز پڑھنے کا ذکر ہو رہا ہے۔باقی اس کے حوالے میں چھوڑتا ہوں۔بریلوی کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا تعلق ہے دیوبندی علماء یہ شرعی حکم ہمیں سناتے ہیں:۔