دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 186
186 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص با وجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا۔اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بناء ظاہر پر ہے ( اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک با وجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔ہمیں دعوے سے کہنا نہیں چاہئے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے۔“ (10) ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دنوں میں مشہور سیاسی لیڈر سر فضل حسین آپ کی خدمت میں حاضر ر ہوئے اور کچھ سوالات آپ کی خدمت میں پیش کئے۔اس گفتگو کے دوران آپ نے فرمایا:۔کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے۔(ملفوظات جلد 5ص 635 اسی مضمون کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الثانی اپنی تصنیف آئینہ صداقت میں تحریر فرماتے ہیں