دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 187 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 187

187 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”میرا عقیدہ ہے کہ کفر در حقیقت خدا تعالیٰ کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی کوئی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہو کہ اس کا ماننا لوگوں کے لئے حجت ہو اس کا انکار کفر ہے اور چونکہ وحی کو انسان تب ہی مان سکتا ہے کہ جب وحی لانے والے پر ایمان لائے۔اس لئے وحی لانے والے پر ایمان بھی ضروری ہے۔اور جو نہ مانے وہ کافر ہے۔اس وجہ سے نہیں کہ وہ زید یا بکر کو نہیں مانتا بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے نہ ماننے کے نتیجہ میں اسے خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔۔۔اور چونکہ میرے نزدیک ایسی وحی جس کا ماننا تمام بنی نوع انسان پر فرض کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود پر ہوئی ہے اس لئے میرے نزدیک بموجب تعلیم قرآن کریم کے ان کے نہ ماننے والے کافر ہیں خواہ وہ باقی سب صداقتوں کو مانتے ہوں۔“ (11) سرسری نظر سے ان حوالہ جات کو پڑھنے سے ایک نا واقف شخص شاید یہ نتیجہ نکالے کہ ان حوالہ جات میں تضاد ہے کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر ہے اور ایک اور جگہ پر لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے۔لیکن درحقیقت یہاں پر کوئی تضاد نہیں۔اس قسم کے مضامین احادیث نبویہ صلی یکم میں بھی بیان ہوئے مثلاً صحیح مسلم کی کتاب الایمان میں روایات ہیں کہ جو اپنے آپ کو کسی کا بیٹا کہے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے اس نے کفر کیا بَاب مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ آبِيْهِ) اور ایک اور روایت میں ہے کہ جو اپنے باپ سے بیزار ہوا وہ کافر ہو گیا ( باب بَيَانِ حَالِ إِيْمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيْهِ) اسی طرح رسولِ کریم صلی ہم نے فرمایا کہ لوگوں میں دو چیزیں ہیں جو کفر ہیں۔ایک نسب پر طعن کرنا اور دوسرے میت پر چلا کر رونا (اطلاق اسْمِ الْكُفْرِ عَلى طَعْنٍ فِي النَّسَبِ وَالتَّيَاحَةِ )۔اسی طرح ارشاد نبوی ہے کہ جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش پڑی اس نے کفر کیا (بَيَانُ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْعِ) پھر ارشادِ نبوی صلی کمی ہے کہ آدمی اور الله سة شرک اور کفر کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہی ہے اور اس پر امام مسلم نے باب ہی یہ باندھا ہے بَيَانُ اطْلَاقِ