دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 185
185 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آپ نے تریاق القلوب میں تحریر فرمایا ہے کہ آپ کے انکار سے کوئی شخص کافر نہیں بنتا علاوہ ان لوگوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔لیکن عبدالحکیم خان کے نام مکتوب میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ہر شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔اس کا جواب آپ حقيقة الوحی میں یہ تحریر فرمایا:۔نے وو یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔۔۔جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میں مفتری نہیں اور مومن ہوں تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے اور مجھے کافر ٹھہرا 66 کر اپنے کفر پر مہر لگا دی۔یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔۔۔“ (9) وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی کام کو خدا کا رسول نہیں مانتا (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو با وجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ