دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 177 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 177

177 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ اب سارا دن گزار کر شاید اٹارنی جنرل صاحب موضوع پر آئیں اور کچھ علمی اور پر معرفت باتیں سننے کو ملیں لیکن چند منٹ ہی گزرے تھے کہ یکی بختیار صاحب اچانک بغیر کسی تمہید کے پٹڑی سے اترے اور ایسا اترے کہ بہت دور نکل گئے۔انہوں نے اچانک سوال کیا آپ اپنے لیے تو تواضع پسند کرتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے تواضع نہیں ظاہر کرتے اور اس الزام کے حق میں اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے جو دلیل پیش فرمائی وہ یہ تھی کہ آپ نے یہ تقاضا کیا تھا کہ آپ کے نام جو محط آئے وہ امام جماعت احمدیہ کے نام آئے، جب کہ آپ نے اپنے انگریزی میں لکھے گئے ضمیمہ میں مودودی صاحب کا نام مسٹر مودودی لکھا ہے ، جب کہ ان کے پیروکار انہیں مولانا مودودی کہتے ہیں۔ان کا اصرار تھا کہ اس طرح مودودی صاحب کی تحقیر ہوتی ہے اور ان کی جماعت کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں حکومت کی طرف سے ایک خط ملا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح کا ذکر کرنا تھا لیکن قومی اسمبلی کے سیکریٹری نے ان کے لئے انجمن احمدیہ کے بیڈ کے الفاظ استعمال کئے۔حقیقت یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کا صدر صرف جماعت کی اس تنظیم کا سربراہ ہوتا ہے اور وہ امام جماعت احمد یہ نہیں ہوتا۔یہ بات نہ صرف احمدیوں میں بلکہ غیر احمدیوں میں بھی معروف ہے۔اس غلطی کی ضروری تصحیح کی گئی تھی اور وہ تصحیح بھی حضرت خلیفة المسیح الثالث کی طرف سے نہیں بلکہ ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی طرف سے بھجوائی گئی تھی لیکن اٹارنی جنرل صاحب با وجود وکیل ہونے کے اس موٹی بات کو سمجھنے سے بھی قاصر تھے اور اس غلطی کو بنیاد بنا کر ایک لایعنی اور غیر متعلقہ اعتراض کر رہے تھے۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے مذکورہ وضاحت بیان فرمائی اور کہا کہ میں اپنے لیے کسی ادب کا مطالبہ نہیں کرتا۔آپ مجھے مسٹر بھی نہ کہیں۔میرا نام مرزا ناصر احمد ہے، آپ مجھے خالی ناصر کہیں۔