دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 176
176 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کا اس سے زیادہ اور مطلب نہیں۔اور سیاسی طور پر کسی کا یہ حق نہیں کہ ان تین احادیث کی روشنی میں جو محضر نامے میں ہیں، سیاسی طور پر کسی حکومت کو حق نہیں ہے کہ کسی فرقے کو کافر قرار دے۔“ 66 اس موقع پر اٹارنی جنرل صاحب کسی نامعلوم وجہ سے یہ دور کی کوڑی لائے کہ علماء نے جو ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے ہیں وہ جذبات میں الیکشن کے جوش میں ایک دوسرے کو کافر کہہ دیا تھا۔یہ بالکل لا یعنی دعوی تھا اس پر حضور نے فرمایا کہ الیکشن تو اب شروع ہوئے ہیں اور یہ فتوے صدیوں سے دیئے جا رہے ہیں۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات پوچھے کہ کیا احمدی مرزا صاحب کو نبی سمجھتے ہیں۔اس پر حضرت خليفة المسیح الثالث" نے یہ پر معارف جواب دیا کہ نہیں ، ہم انہیں امتی نبی سمجھتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ نبی ہونے اور امتی نبی ہونے میں بہت فرق ہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے وضاحت کرنے کے لیے کہا تو اس پر حضور نے فرمایا:۔"امتی نبی کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص نبی اکرم صلی علیم کے عشق و محبت میں اپنی زندگی گزار رہا ہے۔اس کو ہم امتی کہیں گے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ۔۔۔میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاؤ گے۔امتی کے معنی یہ ہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نبی اکرم صلی للی کام کے کامل متبع تھے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی روحانی برکت اور فیض نبی اکرم صلی للی نام کی اتباع کے بغیر حاصل ہو نہیں سکتا۔“ اس کے بعد یہ بات شروع ہوئی کہ احمدیوں کے نزدیک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور کفر کے کیا کیا مطالب ہو سکتے ہیں، شرعی اور غیر شرعی نبی میں کیا فرق ہوتا ہے۔