دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 178
178 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جہاں تک اٹارنی جنرل صاحب کی دوسری بات کا تعلق تھا تو اس کا پس منظر یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے ضمیمہ میں مودودی صاحب کا نام انگریزی میں مسٹر مودودی کر کے لکھا ہوا تھا۔اسی ضمیمہ میں مسٹر مودودی کے الفاظ سے پانچ لفظ پہلے مسٹر بھٹو کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔حضور نے فرمایا کہ جو چیز میں نہیں سمجھ سکا وہ یہ ہے کہ اسی جگہ پانچ لفظ پہلے مسٹر بھٹو سے تو تحقیر ظاہر نہیں ہوتی اور مسٹر مودودی سے تحقیر ہوتی ہے۔یہ بات میں نہیں سمجھ سکا۔تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اسی بات کو دہراتے رہے کہ اس طرح مودودی صاحب کے بارے میں تواضع کا رویہ نہیں دکھایا گیا۔انہوں نے ایسی کج ظاہر بحثی کا مظاہرہ کیا کہ خود سپیکر اسمبلی کو کہنا پڑا کہ یہ مناظرہ ختم کر کے وہ معتین سوال کریں۔۔یعنی اٹارنی جنرل صاحب یا اسمبلی کو تو یہ اختیار ہے کہ وہ جس کے متعلق پسند کریں اسے غیر مسلم کہہ دیں لیکن اگر انگریزی میں مودودی صاحب کو مسٹر مودودی کر کے لکھا جائے اور ان کو مولانا نہ کہا جائے تو یہ ایسی تحقیر ہے کہ اس کا سوال خود اسمبلی میں اٹھایا جائے جب کہ بحث کا مقصد یہ ہو کہ ختم نبوت کہ ختم نبوت کو نہ ماننے والوں کا اسلام میں کیا مقام ہے اور سوال یہ اٹھایا جائے کہ مودودی صاحب مسٹر ہیں یا مولانا ہیں اور ٹارنی جنرل صاحب یہ نامعقول بحث کرتے ہوئے یہ کس طرح فراموش کر گئے کہ اس وقت قومی اسمبلی کے سامنے اپوزیشن کی قرارداد تھی جس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہایت گستاخی سے لیا گیا تھا۔کیا اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے اعتراض کیا تھا کہ یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے؟ بلکہ پیپلز پارٹی کے وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا تھا حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اصولی طور پر اس سے متفق ہے اور اٹارنی جنرل صاحب یہ کس طرح بھول گئے کہ 4 جون 1974ء کو جب قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مفتی محمود صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثالث کا نام لیا تھا تو ساتھ صاحب کا لفظ لگانے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا اور آج اٹارنی جنرل