دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 135 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 135

135 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ڈاکٹر محمد زبیر صاحب نے گواہی دی (1) 29 مئی 1974ء کو جب زخمی طلباء کو ہسپتال لایا گیا تو ان کو ایمر جنسی کی بجائے براہ راست وارڈ میں لے جایا گیا۔میں نے ان کا معائنہ کیا اور ان میں سے ایک طالب علم آفتاب احمد کو کسی حد تک Serious کہا جاسکتا ہے۔میں ان کی حالت کے متعلق یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس کے سر پر ضرب لگی تھی اور وہ اس وقت بے ہوش تھا۔اور باقی مضروب پوری طرح ہوش میں تھے۔باقی آٹھ طلباء کی حالت کو Grievous نہیں کہا جا سکتا۔(2 اس ایک Serious طالب علم آفتاب احمد صاحب کو بھی 7 روز کے بعد 8 / جون کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان کا سر کا ایکسرے کیا گیا تھا اور وہ بھی ٹھیک نکلا تھا اور کوئی فریکچر نہیں تھا۔تھا۔3 ڈاکٹر محمد زبیر صاحب نے کسی اور مریض کے ایکسرے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔4 کسی طالب علم کو خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔نشتر ہسپتال کے Causality Medical Officer ڈاکٹر اقبال احمد صاحب نے یہ گواہی دی (1) میں نے چار زخمی طلباء کا شعبہ حادثات میں معائنہ کیا، جن میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں تھا۔(2) ان میں سے کسی کو بھی خون نہیں لگانا پڑا۔3 ایک طالب علم کی آنکھ کے ارد گر د نیلا داغ نمودار ہو اتھا، ایکس رے کر ایا گیا تو وہ ٹھیک نکلا کوئی فریکچر نہیں ان ڈاکٹر صاحبان نے بیان کیا کہ داخل ہونے والے طلباء میں سے بعض ایسے بھی تھے جو ڈسچارج ہونے کا انتظار کیے بغیر خودی ہسپتال سے چلے گئے تھے۔یہ تھی ان شدید زخمیوں کی نازک حالت کی حقیقت جس کے متعلق پورے ملک میں افواہیں اڑائی جارہی تھیں کہ زبانیں اور اعضاء کاٹ دیئے گئے اور اخبارات بھی لکھ رہے تھے کہ ان میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔اور بیچ یہ تھا کہ کسی ایک کے بھی زخم اس نوعیت کے نہیں تھے کہ انہیں Grievous Injury کہا جاسکے۔کوئی جان ضائع نہیں ہوئی۔کسی کی بڈی فریکچر نہیں ہوئی۔کسی کو خون نہیں لگانا پڑا۔صرف دو کے ایکسرے کرانے کی ضرورت پڑی اور وہ بھی ٹھیک تھے۔