دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 134
134 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اعضاء کاٹے گئے تھے۔لیکن جب جسٹس صمدانی کی تحقیقات کی خبریں اخبارات میں شائع ہونے لگیں تو اس قسم کی خبر کا کوئی نام ونشان بھی نہیں تھا۔اس پر جسٹس صمدانی کو اس مضمون کے خطوط ملنے لگے کہ یہ خبریں شائع کیوں نہیں ہونے دی جار ہیں کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی زبانیں اور دوسرے اعضاء کاٹے گئے تھے۔اس صورتِ حال میں جسٹس صمدانی کو دورانِ تحقیق ہی اس بات کا اعلان کرنا پڑا کہ حقیقت حال یہ ہے کہ ایسی کوئی شہادت سرے سے ریکارڈ پر آئی ہی نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کسی طالب علم کی زبان کاٹی گئی یا کسی کے جسم کا کوئی عضو الگ کیا گیا یا مستقل طور پر ناکارہ کیا گیا۔فاضل جج نے کہا کہ میڈیکل رپورٹوں سے بھی یہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیں اس لیے ان کی تردید ضروری تھی۔(40) جس وقت سٹیشن کا واقعہ ہوا، اس وقت جو خبریں اخبارات میں شائع کی جارہی تھیں وہ یہ تھیں :۔چٹان نے لکھا: اتنا ز خمی کیا گیا کہ ڈیڑھ درجن طلباء ہلکان ہو گئے۔ان کے زخموں کو دیکھنا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔جس قدر طلباء زخمی ہوئے ہیں ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔“ (41) نوائے وقت نے 30 مئی 1974 ء کی اشاعت میں خبر شائع کی تھی کہ ۳۰ طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اسی اخبار نے یکم جون کو یہ خبر شائع کی تھی کہ 12 طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اخبار مشرق نے 30/ مئی 1974ء کو خبر شائع کی تھی کہ 4 طلباء کی حالت نازک ہے۔اور امروز نے 30 / مئی لکھا تھا کہ 2 کی حالت نازک ہے۔ان خبروں کا آپس میں فرق ظاہر کر رہا ہے کہ بغیر مناسب تحقیق کے خبریں شائع کی جارہی تھیں۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے ان طلباء نے لائلپور میں اپنا علاج کرانا پسند نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم ملتان جا کر اپنے تدریسی ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔حالانکہ اگر ان طلباء کی حالت اتنی ہی نازک تھی تو یہ خود طب کے پیشہ سے منسلک تھے اور جانتے تھے کہ علاج میں تاخیر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔بہر حال ملتان میں ان کے تدریسی ہسپتال جا کر علاج شروع ہوا۔اور جو ڈاکٹر ان کے علاج میں شریک تھے انہوں نے ٹریبیونل کے سامنے ان زخمی طلباء کے زخموں کے متعلق گواہیاں دیں۔ان ڈاکٹروں کے نام ڈاکٹر محمد زبیر اور ڈاکٹر محمد اقبال تھے۔ان میں سے کچھ طلباء یقیناز خمی تھے اور ان میں سے کچھ کو داخل بھی کیا گیا تھا۔لیکن زخموں کی نوعیت کتنی شدید تھی اس کا اندازہ ان ڈاکٹروں کی گواہی سے ہونے والے ان انکشافات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔