دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 88
88 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اگلے روز ہی پنجاب کے مختلف مقامات پر فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔اور 30 مئی کو چنیوٹ، چک جھمرہ، لائلپور، گوجرہ، مانانوالا، شورکوٹ، خانیوال، ملتان، بہاولپور، صادق آباد، ضلع ساہیوال، ڈنگا، راولپنڈی ،اسلام آباد، کوہاٹ ، ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودہا میں فسادات ہوئے جن کے دوران احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملے ہوئے اور انہیں نذر آتش کیا گیا اور لوٹا گیا۔ان کی مساجد کو نقصان پہنچایا گیا۔ان پر پتھراؤ کیا گیا۔ان کی کاروباری املاک کو آگ لگائی گئی، تعلیمی اداروں میں احمدی طلباء کی املاک اور کتب کو نذرِ آتش کیا گیا، احمدیوں کو مختلف مقامات پر زدو کوب کیا گیا۔بعض مقامات پر مفسدین نے جماعتی لائبریری کی دیگر کتب کے علاوہ قرآنِ کریم کے بہت سے نسخے بھی شہید کئے۔جب احمدیوں پر حملے ہو رہے تھے تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مزید ظلم یہ کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودہا میں مفسدین کو قابو کرنے کی بجائے کچھ احمدیوں کو گرفتار کر لیا۔سٹیشن والے واقعہ کے اگلے دن ہی پنجاب اسمبلی میں اس پر بحث شروع ہو گئی۔اور اس بحث میں حکومتی پارٹی کے اراکین جماعت کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ ہم ناموس رسالت پر اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے۔حالانکہ یہاں پر ناموس رسالت کا کوئی سوال نہیں تھا، ایک بلوہ کے واقعہ پر بات ہو رہی تھی۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایک بلوہ کا واقعہ ہوا تھا یقینا حکومت کا حق تھا کہ وہ قصور وار افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرتی لیکن اس کا مذہبی عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہے کہ اگر کوئی قانون شکنی کا مرتکب ہو تو اسمبلی میں اس کے مذہبی خیالات پر زور و شور سے بحث شروع ہو جائے۔حکومتی پارٹی کے اراکین اس مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے میں پیش پیش تھے۔پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے صاف الفاظ میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ احمدی بہت سے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا، اسلام ہمارا مذہب ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ایک حکومتی رکن اسمبلی، سابق کرکٹر کیپٹن حفیظ کاردار صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا تو منشور ہی یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔اس کے بعد ایک اور رکن اسمبلی نے کہا کہ ہمارے منشور میں سوشلزم بھی شامل ہے اس پر ایوان میں شور مچ گیا کہ غیر متعلقہ بات شروع کر دی گئی ہے ، موضوع پر بات کی جائے۔وزیر اعلیٰ ، حنیف رامے صاحب نے بھی ختم نبوت پر ایمان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خاندان کو اور اپنی جائیداد کو ناموس رسالت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ 1953ء میں مارشل لاء کی مثال قائم ہوئی تھی اور اب بعض