دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 89
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 89 قوتیں مارشل لاء لگانا چاہتی ہیں لیکن جمہوریت کا کارواں چلتا رہے گا۔پھر وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعلان کیا کہ جسٹس صمدانی کو ربوہ سٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا جارہا ہے (10)۔پنجاب اسمبلی میں حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین جس قسم کے بیانات دے رہے تھے ان سے یہی ظاہر ہو تا تھا کہ خود حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ عوام کے مذہبی جذبات بھڑکیں اور فسادات زور پکڑ جائیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس دور میں پیپلز پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی وزیر اعظم بھٹو صاحب کے منشاء کے بغیر اس نوعیت کی بیان بازی کرنے کی جرآت نہیں کر سکتا تھا۔اس پس منظر میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " نے 31 / مئی کے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ محمد کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ أَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ دے گا۔---- وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ ( محمد :36,3) ترجمہ : اے وہ لو گو جو ایمان لائے ہو ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔۔۔تم ہی غالب آنے والے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہر گز تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ ) کم نہیں ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔امتِ مسلمہ کو ان آیات میں ان بنیادی صداقتوں سے متعارف کرایا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ اگر امتِ مسلمہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے عملا باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ان کے اعمال کا موعود نتیجہ نہیں نکلے گا اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے اور دوسرے یہ کہ دنیا جتنا چاہے زور لگا لے وہ امتِ مسلمہ پر ، اگر وہ امت اسلام پر حقیقی معنی میں قائم ہو کبھی غالب نہیں آسکتی۔علو اور غلبہ امتِ مسلمہ کے ہی مقدر میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے فرمایا اللهُ مَعَكُمْ کہ ان کا ایک حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔“ پھر حضور نے فرمایا:۔