دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 69 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 69

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 69 کریں گے۔علماء اس کے قتل کے فتوے دیں گے اور بعض اہل دُول اس کے قتل کے لیے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہی ہوں گے۔“ (الصراط السوی فی احوال المهدی مصنفہ مولوی سید محمد سبطین السر سوی، ناشر مینجر البرہان بکڈپو لاہور ، صفحہ 507) اس دور میں اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب ” حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ “ میں تحریر کرتے ہیں۔” جب مہدی علیہ السلام احیاء سنت اور امانت بدعت پر مقاتلہ فرمائیں گے تو علماء وقت جو کہ فقہاء کی تقلید کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں اور آباء و اجداد کی پیروی کے خوگر ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص ہمارے دین و ملت پر خانہ بر انداز ہے اور مخالفت کریں گے اور اپنی عادت کے موافق اس کی تکفیر و تضلیل کا فیصلہ کریں گے۔“ حج الكرامة في آثار القیامۃ صفحہ 363 مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہان بھوپال) تو ان مختلف فرقوں کے لٹریچر سے یہی ثابت ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہی نظریہ رہا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت اس وقت کے علماء ان کی مخالفت بلکہ قتل پر کمربستہ ہوں گے۔ہماری تحقیق کے مطابق تو کبھی کسی فرقہ نے اس بات کا اعلان کیا ہی نہیں کہ جب امام مہدی کا ظہور ہو گا تو اس وقت کے علماء ان کی تائید اور حمایت کریں گے۔بلکہ مختلف ائمہ احادیث نے جب قرب قیامت کی علامات کے بارے میں احادیث جمع کیں تو ان میں اس وقت کے نام نہاد علماء کے بارے جس قسم کی احادیث بیان ہوئی ہیں ان کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔چنانچہ کنز العمال فی سنن الا قوال والافعال میں کتاب القیامۃ میں آنحضرت کا یہ ارشاد منقول ہے تَكُونُ فِي أُمَّتِي فَزَعَةٌ فَيَصِيْرُ النَّاسُ إِلى عُلَمَاءِ هِمْ فَإِذَا هُمْ قِرَدَةٌ وَ خَنَازِيْرُ“۔یعنی میری امت پر ایسا وقت آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کی جگہ بند ر اور سور بیٹھے ہوں گے۔(کنز العمال في سنن الا قوال والافعال تالیف علامہ علاؤ الدین علی المتقی۔الجزء الثالث عشر، ناشر دار الکتب العلمیہ، بیروت لبنان۔ص124) یہ دو احادیث بھی پیش ہیں