دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 70
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 70 70 عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اُٹھائے گا کہ بندوں سے اسے نکال لے لیکن اسے اُٹھائے گا علماء کے اُٹھانے کے ساتھ یہاں تک کہ جب کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ جاہلوں کو سر دار بنالیں گے ان سے مسائل پوچھیں گے۔وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔66 ( متفق علیہ۔مشکوۃ شریف مترجم ، ناشر مکتبہ رحمانیہ اردو بازار۔لاہور۔ص65) ”حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے ، نہیں باقی رہے گا اسلام مگر نام اس کا اور نہ باقی رہے گا قرآن مگر رسم اس کی۔ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے۔ان سے فتنہ نکلے گا اور ان میں ہی لوٹ جائے گا۔“ ( رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔مشکوۃ شریف مترجم، جلد اول، ص 76 ، ناشر مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور) جیسا کہ پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں پاکستان کی طرف سے اوقاف کے فیڈرل سیکریٹری قبل ہاشمی صاحب نے رابطہ عالم اسلامی کی قرار داد پر دستخط کئے تھے۔اور ہم نے اس کتاب کی تالیف کے دوران ان کا انٹر ویو بھی لیا۔اور جب ان سے اس بابت یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا یہ تھا: ”میرے لحاظ سے کسی کو کہہ دینا کہ یہ مسلمان ہے یا مسلمان نہیں۔یہ میں سمجھتا ہوں۔میں تو کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ 66 میرے سے بہتر مسلمان ہے یا نہیں مسلمان ہے۔“ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”کوئی کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسلمان ہے کہ نہیں ہے۔“ اس کے باوجود یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو حکومت نے نہیں کہا تھا کہ وہ اس قرار داد پر دستخط کریں۔اس کے باوجو د جبکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ یہ کہے کہ دوسرا شخص مسلمان ہے یا نہیں پھر بھی انہوں نے اس قرارداد پر دستخط کر دیئے۔اور اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کی اور اس کی قرار دادوں کی کوئی اہمیت بھی نہیں تھی پھر بھی انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملہ پر بیرونِ ملک جا کر اس بحث میں حصہ لیا اور ایک ایسی قرار داد پر دستخط بھی کر دیئے جس کے مطابق پاکستان کی آبادی کے ایک حصہ کا اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ بھی کیا جانا تھا۔البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ سعودی حکومت کے پاس پیسہ تھا اور وہ اس کے بل بوتے پر ایسی کا نفرنسیں کراتے تھے یا