دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 68
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 68 نفس کی رعونت ان پر غالب آجاتی ہے۔اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی طرف نہیں دیکھے گا۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ لوگوں کے لئے بھیڑ کی جلد پہنتے ہیں وہ ظاہری دوست اور پوشیدہ د ہیں۔پس اللہ ان کو واپس لوٹا دے گا اور ان کو ان کی پیشانیوں کے بالوں کی طرف سے پکڑ کر اس کی طرف لے جائے گا جس میں ان کی خوش بختی ہے اور جب امام مہدی ظاہر ہوں گے تو اس کے شدید ترین دشمن اس زمانہ کے علماء ہوں گے۔ان کے پاس کوئی حکومت باقی نہیں رہے گی اور نہ ہی انہیں عام لوگوں پر کوئی فضیلت ہوگی اور ان کے پاس فیصلہ کرنے کا علم تھوڑا ہی ہو گا اور اس امام کے وجود سے تمام عالم سے اختلافات اُٹھا دیئے جائیں گے اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ اس کے ہاتھ میں تلوار ہو گی۔فقہاء اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے اور لیکن خدا تعالیٰ اس کو تلوار کے ساتھ غلبہ نصیب کرے گا۔66 (فتوحات مکیہ مصنفہ حضرت محی الدین ابن عربی، المجلد الثالث، ناشر دار صادر بیروت صفحه 336) ( جماعت احمدیہ کے مسلک کے مطابق تلوار سے مراد خدا تعالیٰ کے جلالی نشانوں اور برہانِ قاطعہ کی تلوار ہی ہو سکتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے الہامات اور رؤیا سے ظاہر ہوتا ہے۔) وو حضرت مجد دالف ثانی تحریر فرماتے ہیں:۔” پس ہمارے پیغمبر کی سنت آپ سے پہلی سنتوں کی ناسخ ہے۔اور حضرت عیسی نزول کے بعد اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔کیونکہ اس شریعت کا نسخ جائز نہیں ہے۔قریب ہو گا کہ علماء ظواہر اس کے اجتہادات کا بار یکی اور پوشیدگی کی وجہ سے انکار کریں اور کتاب و سنت کا مخالف سمجھیں۔“ (مکتوبات امام ربانی، حضرت مجدد الف ثانی، حصہ ششم دفتر دویم، باہتمام حافظ محمد رؤف مجددی ص 13و14) شیعہ کتب میں بھی یہی بیان ہوتا آیا ہے کہ علماء ظاہر کا طبقہ مہدی علیہ السلام کی مخالفت پر کمربستہ ہو گا۔چنانچہ الصّرَاطَ السَّوِى فِى أَحْوَالِ الْمَهْدِى میں حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے متعلق لکھا ہے:۔”جب تک ان میں حالت منتظرہ پہلے سے پیدا نہ ہو گی ہر گز اطاعت و اتباع میں سبقت نہ کر سکیں گے۔بلکہ ہر گزایمان نہ لائیں گے۔بلکہ مثل شیطان شک وشبہ کر کے اپنے قیاسات باطل رکیکہ سے اس کی حجت کا انکار کریں گے۔بلکہ اس کے مقابلہ کو تیار اور عداوت اور دشمنی پر آمادہ ہو جائیں گے اور ہر طرح سے اس کو اور اس کے معتقدین کو اذیت پہنچانے کی کوشش