دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 66
66 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے شریف مکہ اور برطانیہ کے تعلقات پر برا اثر ڈالا۔شریف مکہ فلسطین میں یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آمد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور وہ مستقبل میں بالفور اعلانیہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھ رہے تھے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد 1921ء میں مشہور برطانوی ایجنٹ لارنس ایک معاہدے کا مسودہ لے کر شریف مکہ کے پاس آئے۔اس میں شریف مکہ کے لیے بہت سی مالی اور فوجی مدد کا عہد تھا اور انہیں اس مدد کی اشد ضرورت بھی تھی لیکن ایک شرط یہ بھی تھی کہ شریف مکہ فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کو تسلیم کر لیں۔اس کا نتیجہ یہ نظر آرہا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا عمل دخل بڑھتا جائے گا۔شریف مکہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ برطانیہ فلسطین کے بارے میں اپنے وہ وعدے پورے کرے جو اس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران کیے تھے۔لارنس نے انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ فلسطین کے مسئلہ سے ان کا تعلق نہیں۔لیکن انہوں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ اس طرز پر فلسطین کے مفادات کا سودا کیا جائے۔ان کے اس اصرار نے انگریز حکومت کو ان کے خلاف کر دیا۔اب عبد العزیز محسوس کرتے تھے کہ ان کے لیے میدان خالی ہے۔اب وہ حجاز پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کو مزید وسیع کر سکتے تھے۔1924ء میں انہوں نے حجاز پر حملہ کر دیا۔جب طائف پر قبضہ ہوا تو سعودی افواج نے کافی قتل و غارت کی۔شریف مکہ نے مدد کے لیے بار بار برطانوی سلطنت سے اپیل کی لیکن سب بے سود۔اس اختلاف کے بعد اب برطانوی حکومت ان کی مدد کے لیے تیار نہیں تھی۔ان کی افواج عبد العزیز کی افواج کے سامنے شکست کھاتی گئیں۔اس طرح موجودہ سعودی عرب وجود میں آیا۔اس ابتدائی تاریخ کے جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شروع ہی سے سعودی فرمانرواؤں اور برطانوی حکومت کے قریبی تعلقات تھے۔انہوں نے اپنی ریاست کے لیے یہ درجہ قبول کیا تھا کہ اسے برطانوی حکومت کی Protectorate کا درجہ حاصل ہو۔اور یہاں تک معاہدہ کیا کہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد نہیں مقرر کیا جائے گا جو برطانوی حکومت کے خلاف ہو۔اور سعودی حکومت کسی اور حکومت سے خط و کتابت تک نہیں کرے گی اور کسی اور ملک کو اپنی زمین پر مراعات نہیں دے گی۔اور وہ سالہا سال برطانوی حکومت سے مالی مدد اور اسلحہ لیتے رہے اور اس کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی کسی غیر مسلم حکومت سے کوئی جنگ یا جہاد نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمان حکومتوں سے جنگ کرتے رہے اور ایسا بر طانوی حکومت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا گیا اور جب حجاز کے حکمران نے اس وجہ سے برطانیہ سے معاہدہ کرنے سے انکار کیا کہ اس کی شرائط میں برطانیہ کا فلسطین پر مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑتا تھا اور اس سے لازماً یہودیوں کو اس بات کا موقع مل جاتا تھا کہ وہ فلسطین میں قدم جمائیں اور بعد میں عملاً ایسا ہی ہوا تو عبد العزیز نے اس موقع کو