دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 65 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 65

65 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پہلی جنگ عظیم کے دوران حجاز سمیت موجودہ سعودی عرب کا علاقہ بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔اور سلطنت عثمانیہ جرمنی کا ساتھ دے رہی تھی۔اس سلطنت کو کمزور کرنے کے لیے برطانیہ اور اس کے ساتھی کوششیں کر رہے تھے کہ کسی طرح عرب ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔اس وقت نجد کے علاقے پر سعودی خاندان اور حجاز پر شریف مکہ کی حکومت تھی۔برطانیہ کے ایجنٹوں نے شریف مکہ سے تو روابط بڑھائے اور اپنے ایجنٹ لارنس کو استعمال کر کے شریف مکہ سے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرائی۔لیکن اس کے ساتھ ان کے ایجنٹ سعودی خاندان سے بھی مستقل رابطے رکھ رہے تھے۔سب سے پہلے یہ رابطہ کیپٹن ولیم شیکسپیئر کے ذریعہ ہوا جو کویت میں برطانیہ کے پولیٹکل ایجنٹ تھے انہوں نے 1910ء میں مسجد کے فرمانروا عبد العزیز بن عبد الرحمن ابن سعود سے ملاقات کی اور دونوں میں دوستی اور ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔ولیم شیکسپیئر نے ابنِ سعود کو برطانیہ کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔اور برطانیہ کو ان کی مدد کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ انہیں دوسری مسلمان حکومتوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔1915ء میں سعودی خاندان اور سلطنت برطانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس میں سعودی ریاست کو سلطنت برطانیہ کی ایک Protectorate کی حیثیت حاصل ہو گئی۔برطانیہ کی نمائندگی پرسی کو کس ( Percy Cox) کر رہے تھے۔اس معاہدے کی اوّل شرط میں درج تھا کہ سعودی فرمانروا اپنا جانشین نامزد کریں گے لیکن کسی ایسے شخص کو جانشین نامزد نہیں کیا جائے گا جو کسی طرح بھی برطانوی سلطنت کی مخالفت کرتا ہو اور معاہدے میں یہ درج تھا کہ اگر سعودی ریاست پر کسی نے حملہ کیا تو برطانیہ جس حد تک اور جس طرح مناسب سمجھے گا ان کی مدد کرے گا۔ابنِ سعود کا خاندان کسی اور قوم یا طاقت کے ساتھ کوئی خط و کتابت یا معاہدہ نہیں کرے گا اور اگر کوئی اور حکومت ان سے رابطہ کرے گی تو اس کی اطلاع فوری طور پر برطانیہ کو دی جائے گی اور سعودی خاندان اپنے علاقے میں کسی اور ملک کو مراعات نہیں دے گا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ ابنِ سعود کے خاندان کو سلطنت برطانیہ سے پانچ ہزار پاؤنڈ کی مدد اور ہتھیار ملنے لگے اور پھر برطانوی سلطنت کی خواہش کے مطابق سعودی خاندان نے اپنے ہمسائے میں ابن رشید کی حکومت سے جنگ شروع کی اور انہیں شکست دی۔جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اس وقت حجاز پر جس میں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھی ہیں، شریف مکہ کی حکومت تھی۔ابنِ سعود سمجھتے تھے کہ وہ اس علاقہ پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن شریف مکہ کو برطانوی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور وہ برطانوی حکومت سے کثیر مالی مدد بھی پاتے تھے۔ابنِ سعود نے برطانوی حکام کے سامنے اس بات کا اظہار بھی کیا تھا۔لیکن