دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 67
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 67 غنیمت جانتے ہوئے شریف مکہ کی ریاست پر حملہ کیا اور ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد کی تاریخ بھی اس ابتدائی تاریخ سے مختلف نہیں لیکن اس معروف تاریخ کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔(تفصیلات کے لئے دیکھیں) The Britain and Saudi Arabia,1939-1925 The Imperial Oasis by Clive Leather dale page 372 The Kingdom by Robert Lacey, 168-188 یہ امر قابل حیرت ہے کہ اس تاریخی پس منظر کے باوجو د سعودی حکومت کا اصرار تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور قادیانی برطانیہ کے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں اور جہاد کے منکر ہیں۔اس تاریخی پس منظر کے ساتھ تو ان کی طرف سے یہ الزامات مضحکہ خیز لگتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ خود الزام لگانے والی حکومت کو برطانوی سلطنت نے کھڑا کیا تھا اور حجاز پر قبضہ کرنے کے بعد سعودی حکومت قانونی طور پر سلطنت برطانیہ کی Protectorate کی حیثیت سے چلتی رہی تھی اور ان کی مدد کے ساتھ اور ان کی خواہش کے مطابق مسلمانوں ہی سے جنگ کر کے اور ان کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ایک دوسری بات قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ رابطہ عالم اسلامی میں بحث کے دوران سعودی مندوب مجاہد الصواف نے جو کہ سب کمیٹی کی صدارت بھی کر رہے تھے یہ دلیل بھی پیش کی کہ سعودی عرب کے علماء نے تو یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ قادیانیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے اور اس کی پیروی میں سعودی حکومت نے فرمان بھی جاری کر دیا ہے۔تو اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ایسا تو ہو نا ہی چاہئے تھا۔کیونکہ جماعت احمدیہ کے قیام سے صدیوں پہلے ہی بہت سے صلحاء امت نے یہ پیشگوئی کر رکھی تھی کہ جب مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا تو علماء ہر گز ان کی تائید نہیں کریں گے بلکہ اس کے سخت مخالف ہوں گے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت محی الدین ابن عربی علماء کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔دو ” پس وہ اپنے کینوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔اور وہ لوگوں کی طرف جھکی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اپنے ہو نٹوں کو ذکر کرتے ہوئے ہلاتے ہیں تا کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ وہ ذکر کر رہے ہیں اور وہ بجھی زبان میں کلام کرتے اور استہزاء کرتے ہیں اور