دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 62
62 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری چیئر مین مکہ مکرمہ کی اُم القری یونیورسٹی میں اسلامی قانون کے Associate پروفیسر مجاہد الصواف تھے۔اس کمیٹی کے سپر د بہائیت، فری میسن تنظیم ، صیہونیت اور جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز تیار کرنے کا کام تھا۔اس کمیٹی میں سب سے زیادہ زور و شور سے بحث اس وقت ہوئی جب اجلاس میں جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیالات ہوا۔اور اس بات پر اظہارِ تشویش کیا گیا کہ پاکستان کی بیورو کریسی، ملٹری اور سیاست میں احمدیوں کا اثر ورسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔اور یہ ذکر بھی آیا کہ اگر احمدی غیر مسلم بن کر رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احمدی افریقہ اور دوسری جگہوں پر اپنے آپ کو عالم اسلام کی ایک اصلاحی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور اس بات پر اظہار تشویش کیا گیا کہ قادیانیوں نے حیفا میں اسرائیلی سرپرستی میں اپنا مشن قائم کیا ہے اور اسے چلا رہے ہیں۔( یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف تھا۔کبابیر ، حیفا میں جماعت اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے قائم تھی اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح انہوں نے اس وقت بے انتہا تکالیف اٹھائی تھیں جب وہاں پر یہودی تسلط قائم کیا جا رہا تھا۔اور اس وقت حیفا میں صرف احمدی ہی نہیں رہ رہے تھے بلکہ دوسرے بہت سے مسلمان بھی رہ رہے تھے ) بہر حال خوب جھوٹ بول کر مندوبین کو جماعت کے خلاف بھڑ کا یا گیا۔تمام تگ و دو کے بعد جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پیش کی گئیں اور یہ تجویز کیا گیا کہ تمام عالم اسلام کو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے مطلع کیا جائے کیونکہ قادیانی مسلمانوں کی سیکیورٹی کے لیے بالخصوص مشرق اوسط جیسے حساس علاقہ میں ان کے لیے سنگمین خطرہ ہیں کیونکہ قادیانی جہاد کو منسوخ سمجھتے ہیں اور ان کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور یہ لوگ صیہونیت اور برطانوی استعمار کو مضبوط کر رہے ہیں اور قادیانی ان طریقوں سے اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔یہ اپنی عبادت گاہیں تعمیر کر رہے ہیں جہاں سے یہ اپنے عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اپنی خلاف اسلام سر گرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے سکول اور یتیم خانے تعمیر کر رہے ہیں اور قرآنِ کریم کے تحریف شدہ تراجم دنیا کی زبانوں میں شائع کر رہے ہیں اور اس کام کے لیے انہیں اسلام کے دشمن مدد مہیا کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کے متعلق یہ فلمی منظر کشی کرنے کے بعد کمیٹی نے یہ تجاویز پیش کیں۔-1 تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد ، مدارس، یتیم خانوں اور دوسرے تمام مقامات میں جہاں وہ اپنی سر گرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں۔