دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 63 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 63

63 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری -2 -3 -5 ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیے اس گروہ کے کفر کا اعلان کیا جائے۔قادیانیوں سے مکمل عدم تعاون اور مکمل اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی بائیکاٹ کیا جائے۔ان سے شادی سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور ان کی املاک کو مسلمان تنظیموں کے حوالے کیا جائے۔اور قادیانیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔قادیانیوں کے شائع کیے گئے تحریف شدہ تراجم قرآن مجید کی نقول شائع کی جائیں۔اور ان تراجم کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے۔جب یہ تجاویز کمیٹی کے سامنے آئیں تو مختلف تنظیموں کے مندوبین نے ان سے اتفاق کیا اور اس قرار داد پر دستخط کر دیئے۔پاکستان کے سیکریٹری اوقاف ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی اس قرار داد پر دستخط کئے لیکن اتنا اختلاف کیا کہ انہیں ان تجاویز کے مذہبی حصہ سے اتفاق ہے لیکن انہیں اس تجویز سے اتفاق نہیں کہ قادیانیوں کو ملازمتوں میں لینے پر پابندی لگائی جائے۔اس کی جگہ انہیں غیر مسلم قرار دینا کافی ہو گا۔اس پر کمیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے کہا کہ علماء کے فتوے کے پیش نظر سعودی حکومت نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ اس بات پر پابندی لگادی ہے کہ قادیانی سعودی عرب میں داخل ہوں یا انہیں یہاں پر ملازمت دی جائے۔اس طرح یہ قرار داد منظور کر لی گئی۔اب یہ صورتِ حال ظاہر وباہر تھی کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ایسی سازش تیار کی جارہی ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اس کا جال بہت سے ممالک میں پھیلا ہو گا اور اب پاکستانی حکومت بھی اس بات کا تہیہ کئے بیٹھی ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اس طرح ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے۔اور اس قرارداد کے متن سے یہ بات بالکل عیاں تھی کہ مقصد صرف یہ نہیں کہ دستوری طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے بلکہ جو بھی یہ سازش کر رہا تھا وہ احمدیوں کی تبلیغ سے خائف تھا اور اس کی یہ کوشش تھی کہ جماعت کی تبلیغ کو ہر قیمت پر روکا جائے۔اور یہ ارادے واضح طور پر نظر آرہے تھے کہ احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔