دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 61 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 61

61 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رابطہ عالم اسلامی میں تیار ہونے والی سازش 1962ء میں حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی اور اس کا مرکزی دفتر بھی مکہ مکرمہ میں بنایا گیا۔اس کے مقاصد یہ مقرر کئے گئے تھے۔اسلام کا پیغام دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔ایک بہتر سوسائٹی کے قیام کے لیے کوششیں کی جائیں، مسلم امہ میں تفرقہ دور کیا جائے۔ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو عالم اسلام کی ایک لیگ قائم کرنے میں حائل ہیں وغیرہ۔لیکن عملاً اس تنظیم سے تفرقہ اور فساد پیدا کرنے کا کام لیا گیا۔یہ تنظیم سعودی فرمانرواؤں کے زیر اثر کام کرتی ہے۔1974ء میں اس تنظیم نے کیا کر دار ادا کیا یہ پڑھنے سے قبل یہ حقائق جانے ضروری ہیں کہ 1953ء میں بھی جماعتِ احمدیہ کے خلاف فسادات کی آگ بھڑ کائی گئی تھی اور ان فسادات کے بعد ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ کے مطابق یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت اور بھاری رشوتیں دے کر کرایا گیا تھا۔اس دور میں بھی یہ کوشش کی گئی تھی کہ پہلے رابطہ عالم اسلامی (جو اس وقت مؤتمر کے نام سے کام کرتی تھی ) احمدیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرار داد پاس کرے اور پھر اس کو بنیاد بنا کر یہ فتنہ ایک نئی قوت کے ساتھ پاکستان میں اُٹھایا جائے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف خلیل الرحمن سجاد ندوی صاحب اپنی تحریر ” نگاہِ اوّلین “ میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب 1952ء میں مؤتمر عالم اسلامی کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا تو اس وقت اس کی صدارت مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی صاحب کر رہے تھے۔پاکستانی علماء کا ایک وفد جن میں وہ علماء بھی شامل تھے جو کہ مُؤتمر کے اجلاس میں مدعو تھے ، ان سے ملا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ موتمر کے اس اجلاس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے لیکن مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی صاحب اس کے لئے کسی طور تیار نہیں ہوئے۔پھر یہ صاحب لکھتے ہیں:۔" را قم سطور کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ ان حضرات کی گفتگو سے ان کو وہ یقین واطمینان حاصل نہیں ہو سکا جو ان کے نزدیک تکفیر کے لئے ضروری تھا۔“ (ماہنامہ بینات کراچی جنوری، فروری 1988ص15) لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام کے صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد رابطہ عالم اسلامی کا ایک اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد کیا گیا۔اس میں مختلف مسلمان ممالک کے وفود نے شرکت کی۔اس میں ایک سب کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے متعلق بھی کئی تجاویز پیش کی گئیں۔اس کمیٹی کا نام کمیٹی برائے Cults and Ideologies تھا۔اس کے