دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 4
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حسب خواہش " اس کارروائی کو اغلاط سے پاک کر کے محفوظ کرنے کا کام شروع کریں، معلوم نہیں اب یہ کام کس مرحلہ پر ہے۔(نوائے وقت 8 ستمبر 1974) مولانا ابو العطاء صاحب جماعت کے وفد کے رکن تھے۔انہوں نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔فیصلے کا یہ کیا انوکھا طریقہ ہے کہ خود ہی لوگ مدعی ہوں اور خود ہی جج بن جائیں اور خودہی فیصلے کر دیا کریں اور پھر خود ہی اپنی اغلاط کی تصحیح کر لیا کریں؟ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ خصوصی کمیٹی اپنے ہی ایک رکن کو جو فریق مخالف میں شامل تھا مقرر کر دے کہ اپنے ریکارڈ کو گھر میں بیٹھ کر اغلاط سے پاک کر کے مرتب کرے۔ظاہر ہے مولوی انصاری صاحب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی اغلاط کو ہی درست کرنے کی کوشش کریں گے۔“ (الفرقان۔ستمبر 1975) پہلے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی کو روزانہ سرکلر کی بنیاد پر تیار کر کے ساتھ کے ساتھ ممبران میں تقسیم کیا جاتا تھا اور ممبران اس میں تصحیح کر کے واپس جمع کراتے تھے۔بعد میں کسی مرحلہ پر اس کارروائی کو دوبارہ قلمبند کیا گیا۔اور اس مسودہ میں بہت تبدیلیاں کی گئیں اور جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں یہ کام جماعت احمدیہ کے اشد مخالف مولوی ظفر انصاری صاحب کے سپر دہوا تھا۔اس کے بعد ایک طویل خاموشی طاری ہو گئی۔(سلسلہ احمدیہ حصہ سوئم میں جو تجزیہ پیش کیا گیا تھا اس کا ماخذ اوّل الذکر سر کلر تھے اور اس کتاب میں درج تبصرہ کا ماخذ وہ اشاعت ہے جو اب منظر عام پر آئی ہے)۔کئی سال گزرے۔دہائیاں گزریں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ اس کارروائی کو منظر عام پر لایا جائے مگر دوسری طرف سکوتِ مرگ طاری تھا۔مولوی صاحبان اس کارروائی کے حوالے سے متضاد غلط بیانیاں تو کرتے رہے لیکن یہ مطالبہ نہ کرتے کہ اس کارروائی کے اصل ریکارڈ کو منظر عام پر لایا جائے۔کہیں حقائق منظر عام پر نہ آجائیں۔یہ گروہ اس خوف کے آسیب سے باہر نہ آسکا۔