دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 3
3 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری evidence and to put before a committee additional material supplementary to their evidence۔(Government Guidelines for Official Witnesses before Parliamentary Committees and Related Matters-November 1989 )۔آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے ان قواعد کی رو سے گواہ کو اس چیز کا خاطر خواہ موقع ملنا چاہئیے کہ وہ اپنی گواہی کا تحریری ریکارڈ پڑھ کر اس میں موجود غلطیاں درست کرائے اور اگر یہ گواہ پسند کرے تو اضافی تحریری مواد بھی ریکارڈ میں شامل کر سکتا ہے۔اس سپیشل کمیٹی میں جماعت کا وفد بحیثیت گواہ پیش ہو ا تھا لیکن ان کو ان کے بیان کا تحریری ریکارڈ نہیں دکھایا گیا تا کہ وہ اس میں ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں۔جس دن قومی اسمبلی نے آئین میں دوسری ترمیم کے منظوری دی اس روز وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کی اور اس میں کہا کہ گو ابھی اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن بعد میں اس کو منظر عام پر لایا جائے گا۔اس کے بعد یہ کارروائی تو منظر عام پر نہ آئی لیکن احمدیوں نے اور انصاف پسند طبقہ نے اس فیصلہ کے چند روز بعد اخبارات میں یہ خبر حیرت سے پڑھی کہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی اس کارروائی کا تحریری ریکارڈ مرتب کرنے کا کام مولوی ظفر احمد انصاری صاحب کے سپر د کیا گیا ہے۔(روزنامہ امن کراچی۔12 / ستمبر 1975ء ص 4) یہ ممبر قومی اسمبلی جماعت احمدیہ کے اشد مخالف تھے اور اس کارروائی میں ان کے سوالات اور تقاریر اس بات کا ثبوت ہیں۔اور تقریباً ایک سال کے بعد یہ خبر شائع ہوئی کہ اس کارروائی کو مولوی ظفر انصاری صاحب کے سپر د کیا گیا تھا کہ وہ