دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 5
5 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری آخر کار اس واقعہ کے 36 سال بعد ہائی کورٹ میں دائر ہونے والے ایک مقدمہ کے نتیجہ میں لاہورہائی کورٹ نے اس کارروائی کو منظر عام پر لانے کا حکم دیا۔اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کارروائی کو شائع کرنے کی اجازت دی۔جب اس کارروائی کی اشاعت منظر عام پر آئی تو اس بات کی ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آگئی کہ اس اشاعت کی وقت بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین کا گر وہ اس عمل پر اثر انداز ہو رہا تھا اور اس گروہ کی کوشش تھی کہ مکمل حقائق سامنے نہ آئیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ 1) جماعت احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ پر مشتمل تھا۔دو دن کی کارروائی میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے یہ موقف خود پڑھ کر سنایا تھا۔اس اشاعت میں یہ محضر نامہ جو جماعت احمدیہ کا اصل موقف تھا شامل نہیں کیا گیا حالانکہ یہ محضر نامہ کارروائی کا اہم حصہ تھا۔اس کے برعکس جماعت کے مخالفین نے، جن میں مفتی محمود صاحب کا نام بھی شامل ہے جو اپنے مؤقف پر مشتمل طویل تقاریر کی تھیں وہ اس اشاعت میں شامل کی گئیں۔2) جماعتِ احمدیہ کے موقف کے طور پر محضر نامہ کے ضمیمے کے طور پر جو مضامین اور کتابچے جمع کرائے گئے تھے وہ اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے اور جو ضمیمے مخالفین نے جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ بنائے گئے۔3) بعض جگہوں کچھ نمایاں سرخیاں لگا کر خلاف واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاً اس اشاعت کے صفحہ 2360 اور صفحہ 2384 پر جماعت احمدیہ کے مخالفین کی تقاریر کے تحریری ریکارڈ میں یہ ہیڈ نگ لگائی گئی ہیں" مرزا ناصر احمد صاحب سے " اور نیچے کچھ سوالات درج ہیں۔اور یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سے یہ سوالات کئے گئے تھے اور آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقاریر 30 / اگست 1974ء کی کارروائی کی ہیں اور اس روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالث یا جماعت احمدیہ کے وفد کا کوئی نمبر وہاں پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ سوالات کبھی ان تک پہنچائے گئے۔خدا جانے یہ سوالات کس سے کئے جارہے تھے ؟ (4) قومی اسمبلی کے قوانین میں یہ قاعدہ درج ہے کہ جب کمیٹی میں ایک گواہ کو سنا جاتا ہے