دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 562 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 562

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 562 بحیثیت ادارہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا انجام جماعتِ احمدیہ کا یہ موقف تھا کہ کسی ملک کی اسمبلی کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کے مذہبی امور کا فیصلہ کرے۔لیکن جماعتِ احمدیہ کے انتباہ کے با وجود قومی اسمبلی نے اس مسئلہ پر کارروائی کا آغاز کیا اور ممبرانِ اسمبلی نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بزعم خود مفتی بنتے ہوئے خدا کے مامور پر ایمان لانے والوں پر کفر کا فتویٰ بھی لگایا۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں ایک سال قبل ہی نیا آئین نافذ ہوا تھا اور جمہوریت کی بحالی اور نئے سیاسی نظام سے بہت سی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں اور جماعت کا وفد اس سپیشل کمیٹی میں سوالات کے جوابات دے رہا تھا تو انہی دنوں میں بڑی امیدوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی نئی عمارت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ جیسا کہ ہم بعد میں ذکر کریں گے کہ نئے انتخابات ہوئے اور دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے فسادات شروع ہو گئے اور پھر ملک پر ایک طویل مارشل لاء مسلط کر دیا گیا۔اور اس دوران آئین معطل رہا۔پھر آئین بحال ہونے کا وقت آیا تو ایک کے بعد دوسری اسمبلی ٹوٹتی رہی اور اس ادارہ کا وہ حشر ہوا کہ صاحبزادہ فاروق صاحب جو کہ اس کارروائی کے دوران قومی اسمبلی کے سپیکر تھے انہوں نے یہ بیان دیا کہ موجودہ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھوانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اور یہ میرا ایک نا قابل معافی جرم تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اندازہ ہوتا کہ اس اسمبلی کی حیثیت صفر ہو جائے گی اور عوام کی رائے خود اس اسمبلی میں بیٹھنے والوں کے ذریعہ ختم کر دی جائے گی تو وہ اس غلطی کا ارتکاب کبھی نہ کرتے۔یہ تھا اس ادارے کا انجام جس نے احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔(25) یہ فیصلہ دنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا فیصلہ تھا کہ ایک ملک کی سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کسی فرقہ کا مذہب کیا ہونا چاہئے۔اس وقت بھی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کی ایک تاریخ تھی جس سے بھٹو صاحب بخوبی واقف تھے۔اور بھٹو صاحب خود بھی برملا اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ ان واقعات کے پیچھے