دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 561
561 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری آئین منسوخ ہو جائے اور اس کا طریقہ یہ استعمال کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے باغی ہونے والے کچھ اراکین کو وہ مالی مدد دے رہے ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور گورنر غلام مصطفیٰ کھر صاحب کا نام لیا کہ وہ قادیانیوں سے رشوت لے رہے ہیں اور صوبائی خود مختاری کا نعرہ لگا رہے ہیں وزیر موصوف نے بڑے اعتماد سے یہ دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس اس بات کے معین ثبوت موجود ہیں جو جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔اس کے ساتھ انہوں نے علم تاریخ پر طبع آزمائی کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ قادیانی تو شروع سے ہی قیام پاکستان کے مخالف تھے۔(24) اس سنسنی خیز انکشاف کو تیس سال گزر گئے لیکن الزام لگانے والوں کو اب تک یہ توفیق نہ ہوئی کہ کوئی ثبوت سامنے لاتے۔جس طرح انہیں با وجود وعدہ کرنے کے یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اسمبلی کی کارروائی کو منظر عام پر لاتے اس طرح یہ نام نہاد ثبوت بھی سامنے نہ آسکا۔لیکن ان کے جھوٹ کی قلعی خدا نے اس طرح کھول دی کہ غلام مصطفیٰ کھر صاحب کو ، جو ان کے مطابق احمدیوں سے رشوت لے کر ملک کے اور پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کر رہے تھے ، ان کو دوبارہ نہ صرف پیپلز پارٹی میں قبول کیا گیا بلکہ وفاقی وزیر بھی بنا دیا گیا۔