دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 537
537 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کی کہ آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ظاہر ہے کہ یہ بالکل خلاف واقعہ بات تھی۔ہم پہلے ہی اس کتاب میں کئی حوالے درج کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی آنحضرت صلی علیکم کے تابع نبی ہونے کا تھا اور سوال و جواب کے دوران حضور اس بات کی اچھی طرح وضاحت فرما چکے تھے کہ قرآن کریم کے سوا ہمارے لئے کوئی اور شرعی کتاب نہیں۔اگر اعتراض کرنے والے ذرا بھی عقل سے کام لیتے تو کم از کم اتنا تو سوچتے کہ اگر احمدیوں کی کوئی علیحدہ شریعت ہے تو ان کی وہ شرعی کتاب کون سی ہے؟ قرآن کریم کو چھوڑ کر احمدی مسلمان آخر کس شرعی کتاب کے پیروکار ہیں۔اس اعتراض کو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر اس فرضی کتاب کا ابھی تک نام بھی معلوم نہیں ہو سکا۔یہ بات ثابت کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ طریق کار اختیار کیا کہ نا مکمل حوالہ پڑھ کر مطلوبہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔انہوں نے روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435و436۔سے یہ عبارت پڑھنی شروع کی ما سوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ یہ عبارت پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نئی شریعت کا دعویٰ کیا تھا۔یہاں بالکل اور بحث چل رہی تھی اور وہ بحث یہ تھی کہ بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا تھا قرآن کریم میں جو یہ مذکور ہے کہ مفتری ہلاک ہوتا ہے وہ صاحب شریعت ملہمین کے لئے۔حالانکہ قرآن کریم میں ہر اس شخص کا ذکر ہے جو اللہ پر افتراء کرے اور اس عبارت کے آگے یہ ہے کہ شریعت سے مراد صرف نئے احکامات نہیں ہیں۔پھر اسی صفحہ پر حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں:۔”ہمارا ایمان ہے آنحضرت صلی الی یوم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ