دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 424
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 424 خلاف پروپیگینڈا کی تردید کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو لکھ رہے ہیں لیکن وہاں کے اخبارات اسے شائع نہیں کر رہے۔66 الفضل 17 / جون 1947 ص1 تا8) خدا جانے اس مجلس عرفان میں اٹارنی جنرل صاحب کو کیا بات نظر آئی کہ انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔اس مجلس عرفان میں تو حضور نے فرمایا تھا کہ امر تسر کے مسلمانوں پر ظلم ہوا ، اس کا بدلہ دوسرے مقامات پر غیر مذاہب سے نہ لیں بلکہ اپنے بھائیوں کی مالی مدد کریں اور ان کے پاس جا کر ان سے اظہار یکجہتی کریں۔اسی طرح 17 مئی 1947ء کے الفضل میں بھی ایسی کوئی بات نہیں جس سے کسی طرح یہ مطلب اخذ کیا جا سکے کہ احمدی اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔جہاں تک 5 / اپریل، 12 / اپریل 1947ء کے شماروں کا تعلق ہے تو اس کا سوال 1953ء میں عدالتی تحقیقات میں بھی اُٹھایا گیا تھا۔5 / اپریل کی اشاعت میں خلاصہ تھا اور اس میں بعض الفاظ غلط شائع ہو گئے تھے اور 12/ اپریل کی اشاعت میں مجلس عرفان کا مکمل ریکارڈ شائع ہوا تھا اور سارا مضمون بالکل واضح ہو گیا تھا۔یہاں پاکستان کے قیام کی مخالفت کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ان دنوں ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات ہو رہے تھے جگہ جگہ خون خرابہ ہو رہا تھا۔حضور نے ایک رؤیا بیان فرما کر اس امید کا اظہار فرمایا تھا کہ شاید ہندوؤں مسلمانوں میں صلح اور پجہتی کی کوئی صورت پیدا ہو جائے اور یہ فسادات بند ہو جائیں اور آخر میں غیر احمدی اور مسلمانوں کے بارے میں فرمایا:۔