دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 425 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 425

425 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ” یہ سب حالات بتاتے ہیں۔کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک قدرتی اتحاد ہے اور ہم جسم کے ٹکڑوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ان سے جدا ہونے کے معنے یہ ہوں گے۔کہ پھلدار درخت تبر رکھ کر کاٹ دیا جائے۔یاد رکھو ہماری جماعت کی ساری ترقی انہی کی وجہ سے ہوئی ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ ان کی وجہ سے ہو گی۔۔۔ہم پہلے تو یہی کوشش کریں گے کہ کہ ہندوستان مین پیجہتی پیدا ہو جائے۔ورنہ ہم مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔“ الفضل 12 اپریل 1947ء ص 3) الغرض کسی بھی زاویہ سے جائزہ لیا جائے اٹارنی جنرل صاحب پیش کردہ اعتراض کوئی بھی وزن نہیں رکھتا تھا۔ایک بار پھر جعلی حوالہ پیش کر کے بھی وہ اپنے اعتراض کے مردہ میں جان نہیں ڈال سکے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب زیادہ تر انہی اعتراضات کو دہرا رہے تھے جو اس کمیٹی کے سامنے پہلے بھی پیش ہو چکے تھے۔ایک بوسیدہ یہ اعتراض بھی پیش کیا کہ آپ کا مشن اسرائیل میں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں احمدی اس وقت سے موجود ہیں جب کہ ابھی اسرائیل وجود میں بھی نہیں آیا تھا اور احمدیوں کی تعداد تو وہاں پر بہت کم ہے ،باقی فرقوں کے مسلمان احمدیوں کی نسبت بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔وہاں احمدیوں کی بھی مسجد ہے اور غیر احمدی مسلمانوں کی بھی بہت سی مساجد ہیں۔اس بات پر کسی طرح کوئی اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا۔احمدی تو اپنی غریبانہ آمد میں سے چندہ دے کر اپنا خرچہ چلاتے ہیں اور اس سے تبلیغ کا کام بھی کیا جاتا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی فوج میں مسلمان فوجی بھی شامل ہیں اور اسرائیلی فوج بعض مسلمان اماموں کو کچھ رقم بھی دیتی ہے کہ تاکہ وہ مرنے والے مسلمان افراد کی آخری رسومات ادا کریں۔اس