دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 423 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 423

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 423 پر دفن ہوئے۔قادیان احمدی عقائد کا پنگوڑھا ہے، یہیں سے اس نے ترقی کرنی شروع کی۔یہاں کے ایک ایک ذرہ سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔اور قادیانی واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔1947ء میں پاکستان کی خالق جماعت یہ اعلان کر رہی تھی اور 1974ء میں قومی اسمبلی میں یہ الزام لگایا جا رہا تھا احمدیوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا تھا۔انا للہ و انا اليه راجعون بہر حال اٹارنی جنرل صاحب نے اپنے پیش کردہ الزام کو ثابت کرنے کے لئے الفضل کے کچھ حوالے پیش کرنے شروع کئے۔انہوں نے کہا کہ الفضل 17 / جون 1947ء میں مرزا محمود احمد امام جماعتِ احمدیہ کا یہ بیان شائع ہوا تھا:۔”آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب ! میرے اہل ملک کو تو سمجھ دے اور اوّل تو یہ ملک بٹے نہیں اور اگر ہے تو اس طرح بٹے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہے ہیں۔“ الفضل کے اس شمارے میں حضرت خلیفة المسیح الثانی کی ایک طویل مجلس عرفان شائع ہوئی تھی۔اس میں یہ فقرے یا اس مفہوم کی کوئی بات موجود نہیں ہے۔اس ساری مجلس عرفان کے ارشادات مسلمانوں کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی کے جذبات سے پر ہیں۔اس مجلس میں حضور نے فرمایا کہ ”جب ہندوستان کے ہونے والے فسادات میں مسلمانوں پر کہیں پر ظلم ہوتا ہے تو انگلستان کے اخبارات ایک پالیسی کے تحت اسے شائع نہیں کرتے اور جب بھی مسلمانوں کے حقوق کا معاملہ اٹھتا ہے تو یوروپین قومیں مسلمانوں کے مخالفین کے حق میں اور ان کے خلاف رائے رکھتی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے انگلستان میں اپنے مبلغین کو لکھا کہ تم لوگ وہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو مسلمانوں کی حمایت میں مضامین کیوں نہیں لکھتے ان کے