دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 410 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 410

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 410 اس جدید طرز کی معراج سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی الله ولی خیر الاولین والآخرین ہیں اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف سیر ان کا اس نقطہ ارتفاع پر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی انسان کو گنجائش نہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 16ص23) اب اگر خطبہ الہامیہ کو پڑھ کر کوئی یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ نعوذ باللہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کو رسول اللہ صلی العلیم سے افضل قرار دیا ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔اب اٹارنی جنرل صاحب کو کچھ اور نہیں سو جبھی تو کہا کہ ان جملوں کی مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جو تشریح کی ہے وہ تو وہی ہے جو ظفر انصاری صاحب نے پڑھی ہے اور حوالہ دیا کہ الفضل یکم جنوری 1916ء میں یہ لکھا ہے۔جیسا کہ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ اس میں حضرت خلیفة المسیح الثانی کا یہ فرمان درج تھا کہ پارہ اول کا انگریزی ترجمہ قرآن تیار ہو گیا ہے۔خطبہ الہامیہ کا تو کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔اب صورت حال یہ تھی کہ وقفہ اس لیے کیا گیا تھا کہ سپیشل کمیٹی تازہ دم ہو کر نئے ثبوتوں کے ساتھ جماعت پر وزنی اعتراضات اٹھانے کی کوشش کرے گی۔اور ابھی تک جو خفت اٹھانی پڑی تھی اس کا ازالہ ہو گا لیکن عملاً یہ ہوا کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے اس کا آغاز اس طرز پر فرمایا کہ بہت سے حوالے جو انہوں نے اب تک پیش کئے تھے جن پر ان کے اعتراضات کا دارو مدار تھا ان کی حقیقت کھولنی شروع فرمائی۔اکثر حوالے تو سرے سے ہی غلط تھے۔متعلقہ جگہ وہ عبارت ہی موجود نہ تھی۔یا ایک آدھا جملہ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔جب پورے حوالے پڑھے گئے تو ان مقامات پر تو بالکل بر عکس مضمون بیان ہو رہا تھا ، جس سے اس اعتراض کی ویسے ہی تردید ہو جاتی تھی۔