دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 411
411 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سوالات سوالات کسی نے بھی لکھ کر دیئے ہوں ، حوالہ کسی نے بھی نکالا ہو، بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ ت پیش کرنے پڑتے تھے اور جب ان کا جواب ملتا تو خفت بھی سب سے زیادہ ان کے حصہ میں آتی تھی۔اب تک تو ان کا ردِ عمل حیرانی یا زیادہ سے زیادہ بوکھلاہٹ کا تھا لیکن اس تازہ صورت حال نے ان کے رویہ میں چڑ چڑا پن بھی پیدا کر دیا تھا۔انہوں نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں پیش کی کہ ملک کی قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں مسلسل غلط حوالے کیوں پیش کئے جا رہے تھے۔آخر اتنی متواتر غلطیوں کا جواز کیا تھا؟ اس کا ذمہ دار کون تھا؟ جب حضور نے اور دو حوالوں کی نشاندہی فرمائی کہ جو مکتوبات احمدیہ کے ایک صفحہ اور الفضل کے ایک شمارے کی عبارت پر اعتراض اُٹھائے عبارت پر اعتراض اٹھائے گئے تھے تو اس صفحہ اوراس شمارے میں اس قسم کی عبارات نہیں ملیں، تو اس پر اٹارنی جنرل صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ کہنے لگے ”۔۔اس واسطے میں آپ سے گزارش کروں گا، جب آپ انکار کر دیتے ہیں تو اس سے اگر بعد میں کوئی چیز مل گئی تو بڑا برا inference ہوتا ہے۔“ وو اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:۔”یہ presume کیا جاتا ہے کہ احمدیت کے بارے میں جتنی بھی important چیزیں ہیں۔وہ آپ کے علم میں ضرور ہوں گی۔“ اس مرحلہ پر ان کے اس جملہ کا تجزیہ ضروری ہے۔جماعت نے پہلے سپیشل کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ جو سوالات کیے جانے ہیں وہ پہلے سے بتا دئے جائیں تاکہ جماعت کے لٹریچر سے متعلقہ حوالہ جات نکال کر پوری تحقیق کر کے ان کے جوابات کمیٹی کو دیئے جائیں۔لیکن کمیٹی اس خیال میں تھی کہ وہ کوئی بہت حیران کن سوالات پیش کرے گی۔جب وہ سوالات پیش کیے گئے جو مولوی ممبران اسمبلی نے لکھ کر دئے اور اٹارنی