دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 39 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 39

39 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری میں احمدیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔تو اصل ارادے نہیں تھے کہ احمدیوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم کر دیا جائے ور نہ ریاست میں ہندو، عیسائی اور یہو دی تو داخل ہو سکتے تھے لیکن احمدی مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگانے کی تجویز کی جارہی تھی۔گویا یہ ان خدمات کا صلہ دیا جارہا تھا جو احمدیوں نے اہل کشمیر کی مدد کے لئے سر انجام دی تھیں۔اس قرار داد میں ایک اہم سفارش یہ تھی کہ ریاست میں احمدیوں کی تبلیغ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔یہ بات قابل مذمت ہونے کے ساتھ قابل فہم بھی تھی کیونکہ مخالفین جماعت دلائل کے میدان میں احمدیوں کا مقابلہ کرنے سے کتراتے ہیں اور ان کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ انہیں تو ہر قسم کا زہر اگلنے کی اجازت ہو بلکہ اس غرض کے لئے ہر قسم کی سہولت مہیا کی جائے مگر احمدیوں پر پابندی ہونی چاہئے کہ وہ اس کا جواب نہ دے سکیں۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کشمیر میں عیسائیت یا دوسرے مذاہب کی تبلیغ پر کوئی پابندی لگانے کی سفارش نہیں کی گئی تھی، صرف احمدیت کی تبلیغ پر پابندی لگانے پر زور تھا۔احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی لگانے پر اصر ار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ گروہ احمدیوں کے دلائل سے خائف رہتا ہے۔پاکستان کے اکثر بڑے اخباروں میں یہ خبر ایک خاص معنی خیز انداز میں شائع کی جارہی تھی۔ایک تو جب نوائے وقت ، امروز اور پاکستان ٹائمز میں یہ خبر شائع کی گئی تو یہ شائع نہیں کیا کہ ابھی اس کے مطابق قانون سازی نہیں کی گئی اور یہ قرار داد ایک سفارش کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ یہ لکھا گیا کہ کشمیر میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔دوسرے ان تینوں اخباروں میں یہ لکھا گیا کہ یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے (3،4،5) جس سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اسمبلی کے تمام اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت اپوزیشن اسمبلی میں موجو د ہی نہیں تھی۔اور خدا جانے یہ بات صحیح تھی کہ غلط مگر بعض حکومتی اراکین نے بھی احمدیوں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے بھی اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ممکن ہے کہ اس وقت بعض حکومتی اراکین بھی اسمبلی میں موجود نہیں تھے جب کسی وجہ سے عجلت میں یہ قرارداد منظور کرائی گئی۔(5) یہ بات بھی قابل غور تھی کہ وہ اخبارات جو کہ پاکستان کی حکومت کے اپنے اخبارات تھے یعنی امروز اور پاکستان ٹائمز ، وہ بھی اس قرارداد کے متعلق صحیح حقائق پیش کرنے کی بجائے بات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے تھے۔حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا ایک ہی مقصد ہو سکتا تھا اور وہ یہ کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کو ہوادی جائے۔جماعت کی مخالف پارٹیوں کو تو گزشتہ انتخابات میں مکمل شکست کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ جماعت احمدیہ کے خلاف شورش پید ا کر کے اپنی