دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 40
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 40 40 سیاست کے مردے میں جان ڈالیں لیکن اب اس بات کے آثار واضح نظر آرہے تھے کہ حکومت میں شامل کم از کم ایک طبقہ اب جماعت احمدیہ کے خلاف سازش میں شریک ہو رہا ہے اور کچھ سرکاری افسران بھی اس رو میں بہہ چکے تھے۔اور اسی طرح ایک شورش برپا کرنے کی کوشش ہو رہی تھی جس طرح ہیں سال قبل 1953ء میں برپا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔میں پچیس سال قبل بھی ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انتخابات میں وہ جماعت کامیاب ہوئی تھی جسے جماعت احمدیہ کی حمایت حاصل تھی اور ان نام نہاد سیاسی جماعتوں نے سیاسی زندگی حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک شورش برپا کی تھی اور بر سر اقتدار پارٹی کا ایک حصہ اپنے مفادات کے لئے مولویوں کی تحریک کی پشت پناہی کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا اور وہ اخبارات جماعت کے خلاف زہر اگلنے لگے تھے جنہیں حکومت پنجاب کی مالی سر پرستی حاصل تھی۔اور اب بھی اس بات کے آثار نظر آرہے تھے کہ تاریخ دہرائی جارہی ہے۔بہت جلد پاکستان میں یہ بیان بازی شروع کر دی گئی کہ اب پاکستان میں ایسی قانون سازی کرنی چاہئے جس کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا فیصلہ بالکل صحیح اور حقیقت کے مطابق ہے اور حکومت پاکستان کو اس کی پیروی کرنی چاہئے (6)۔جمعیت العلماء پاکستان کی طرف سے بھی یہ قدم اٹھانے پر صدر آزاد کشمیر کو مبارکباد دی گئی اور اس جماعت کے صدر شاہ احمد نورانی صاحب نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے۔اس کے علاوہ مختلف مساجد میں خطیبوں نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کر کے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے (8,7)۔آزاد کشمیر کی حکومت کو یہ مبارکبادیں صرف ملک کے اندر سے نہیں موصول ہو رہی تھیں بلکہ جلد ہی جماعت کے مخالف جریدوں نے یہ خبر شائع کی کہ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری نے تار کے ذریعہ مکہ معظمہ سے پاکستان کے صدر بھٹو کو آزاد کشمیر کی اسمبلی کی اس قرار داد پر مبارکباد کی تار دی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تار آزاد کشمیر کے صدر کو نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم کو بھجوائی گئی تھی۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کے مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں اور مسلمان فرقوں میں اس گمراہ فرقہ کو اپنا شر پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔(9)