دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 38
38 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سنایا اور کہا کہ آئین میں ان عہدیداروں کے لئے مسلمان ہونالازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کے مطابق یہ حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حلف اُٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ محمد مصطفے اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی ہے (سہوِ کتابت معلوم ہوتی ہے۔اصل میں کوئی نبی نہیں ہے کہ الفاظ کہے گئے ہوں گے ) میجر ایوب نے کہا کہ اصولی طور پر آئین کی اس دستاویز کی رو سے وہ لوگ خود بخود غیر مسلم ہو گئے جو رسول اکرم کو آخری نبی نہیں مانتے اور چونکہ آزاد کشمیر اسمبلی اس سے قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور اس کی روشنی میں قانون سازی بھی کی گئی ہے کہ ریاست میں اسلامی قوانین نافذ کئے جائیں گے اس لئے لازم ہے کہ اس معاملہ میں شریعت کے مطابق واضح احکامات جاری کئے جائیں۔ایوان کے ایک رکن نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کی بعض عدالتوں کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔“ (1) گو کہ یہ قرارداد حکومت سے سفارش کے طور پر تھی اور قانون سازی نہیں تھی لیکن یہ بہر حال واضح نظر آرہا تھا کہ جماعت کے مخالفین کے عزائم کیا ہیں۔وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو آئینی طور پر ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اور انہیں یہ امید تھی کہ اگر احمدیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو یہ چیز کم از کم پاکستان میں احمدیت کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو گی۔پہلے اس قدم کی تمہید کے طور پر آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے لئے ختم نبوت کا حلف اُٹھانا ضروری قرار دیا گیا۔اور پاکستان کے آئین میں ان حلف ناموں کو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کی اسمبلی میں سفارش کے طور پر یہ قرار داد منظور کرائی گئی تا کہ اسے بنیاد بنا کر پاکستان میں بھی اس قسم کا قانون بنانے کی کوششیں کی جاسکیں۔لیکن کشمیر اسمبلی میں بھی جو قرار داد پیش کی گئی اس کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے قانونی طور پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا بھی ان کا آخری مقصد نہیں تھا بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کو ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔مثلاً یہ تجویز کیا گیا تھا کہ احمدیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور انہیں آبادی کے تناسب سے مختلف شعبوں میں ملازمتیں دی جائیں۔حالانکہ کشمیر یا پاکستان میں ایسا کوئی قانون تھا ہی نہیں کہ کسی مذہبی گروہ کو خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں ہو ، آبادی کے تناسب سے ملازمتیں دی جائیں گی۔یہ شوشہ چھوڑنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ احمدی میرٹ کی بنیاد پر اپنا حق حاصل نہ کر سکیں۔اور ان پر ایسا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ارتداد کا راستہ اختیار کریں۔گو کہ منظوری کے وقت یہ حصہ حذف کر دیا گیا لیکن جو قرار داد میجر ایوب صاحب کی طرف سے پیش کی گئی اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ ریاست