دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 394
394 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری الفضل میں سے یہ حوالہ کسی طرح ڈھونڈ کر اسمبلی کی خدمت میں پیش کیا جائے۔جو سوال کر رہا ہے یہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ متعلقہ حوالہ نکال کر اپنے سوال میں وزن پیدا کرے نہ کہ اس کا جس پر اعتراض کیا جارہا ہے۔اس ضمن میں جو آخری جملہ اٹارنی جنرل صاحب فرما سکے وہ یہ تھا:۔دو تو آپ کے پاس یہ نہیں ملا؟" ان کی بے یقینی کی کیفیت کو دور کرنے کے لئے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ایک بار پھر ارشاد فرمایا:۔”ہاں ! ہاں! ہمیں نہیں مل رہا۔“ پھر ضمیمہ تحفہ گولڑویہ کی ایک عبارت پیش کی گئی تھی کہ ”دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا(88) اور اس پر یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ گویا یہ کہا گیا ہے کہ باقی مسلمان فرقوں کو اسلام کی طرف منسوب نہیں ہونا چاہئے۔حضور نے اس حوالہ کا سیاق و سباق پڑھا جس میں بالکل ایک اور مضمون بیان ہو رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کرتا ہے اور آپ کو کافر کہتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ احمدی اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور اب احمدیوں کا امام احمدیوں میں ہی سے ہونا چاہیئے۔یہاں اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا کہ کسی فرقہ کو اسلام کی طرف منسوب ہونے یا اسلام کا دعویٰ کرنے کا حق ہے کہ نہیں اور اس ساری عبارت پر وہ اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا جو اُٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔پھر اسی طرح حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف انوار الاسلام کی ایک عبارت کا پورا سیاق و سباق پڑھ کر سنایا۔اس کا حوالہ پیش کر کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔حضور نے ساری عبارت پڑھ کر سنائی یہاں سارا خطاب ان پادریوں اور عیسائیوں سے ہے