دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 393
393 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب کی حیرت پر حیرت ہے۔یہ کوئی پہلا حوالہ تو نہیں تھا جو کہ غلط پیش کیا گیا تھا۔بہر حال حضور نے جواب دیا:۔”ہاں میں نے یہ اس دن کہا تھا کہ پانچ دس دن آگے یا پیچھے کے بھی ہم دیکھ لیں گے۔" غالباً اٹارنی جنرل صاحب کے لئے یہ بات نا قابل برداشت ہو رہی تھی کہ اس قسم کی ایک اور خفت برداشت کرنی پڑے لیکن اس بوکھلاہٹ میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ انہی کا حصہ ہے۔وہ بولے " نہیں بعض دفعہ سال کی غلطی ہو جاتی ہے۔اس تاریخ یا قریب سال کا۔۔۔66 ذرا ملاحظہ کریں کہ حوالہ قومی اسمبلی کے اراکین پیش کر رہے ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب اس کو پڑھ کر سنا رہے ہیں اور حوالہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جماعت احمدیہ پر اعتراض کیا جائے اور اس آڑ میں ان کو ان کے حقوق سے محروم کیا جائے اور حسب سابق حوالہ ایک بار پھر غلط نکل آیا لیکن جماعت احمدیہ کے وفد سے ہی یہ فرمائش کی جارہی ہے کہ ہمارا حوالہ تو غلط نکل آیا لیکن اب تم کوشش کر کے کہیں یہ ڈھونڈ کر ثابت کرو کہ یہ عبارت الفضل میں شائع ہوئی تھی تا کہ ہم تمہارے خلاف اعتراض کر سکیں۔اس لا یعنی فرمائش کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ کئی دہائیوں میں شائع ہونے والے ”الفضل“ کے شماروں میں یہ ڈھونڈنا ممکن نہیں۔لیکن آفرین ہے اٹارنی جنرل صاحب پر کہ اس کے بعد وہ فرمانے لگے کہ بعض دفعہ سال کی غلطی بھی ہو جاتی ہے ہو سکتا ہے جہاں 1952ء ہے وہ 1951ء ہو۔بعض دفعہ 13 کی جگہ 213 ہو جاتا ہے۔اب یہ عجیب صورت حال تھی کہ ایک حوالہ پیش کر کے جماعت احمدیہ پر الزامات لگائے جا رہے ہیں اور وہ حوالہ بیان کردہ تاریخ کے الفضل میں موجود نہیں۔اور اٹارنی جنرل صاحب جماعت کے وفد سے یہ فرمائش کر رہے ہیں کہ کسی